وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم کا افتتاح کر دی،18 ہزار 500 گھر تعمیر کیے جائیں گے

0
41

اسلام آباد ، 11 جولائی (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے ا سلام آباد کے زون 4 میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔منصوبے کے تحت ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 18 ہزار گھر تعمیر ہوں گے جن میں سے 10 ہزار گھر غریب اور نادار طبقات کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں جن کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے غریب اور نادار طبقات کو چھت کی فراہمی ان کا خواب ہے، نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبہ کے تحت معاشرے کے کمزور بالخصوص چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لئے اپنی چھت کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، حکومت نجی شعبہ کے ساتھ مل کر شہروں کی کچی بستیوں کے مکینوں کو سہولیات کے ساتھ گھروں کی فراہمی کو ممکن بنائے گی، گھروں کی تعمیر کیلئے بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں آسانیاں فراہم کر نے کیلئے قانون سازی سمیت دیگر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہیں آج بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کا آغاز ہو رہا ہے، انشاءاﷲ یہ اسکیم پورے پاکستان میں لے کر جائیں گے، اس منصوبے میں حکومت نجی شعبہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے کیونکہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے، اسکیم کے تحت حکومت زمین فراہم کرے گی جبکہ نجی شعبہ حکومت کے ساتھ مل کر گھر بنائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کے منصوبے میں مجموعی طور پر 18 ہزار گھر ڈیڑھ سال کے عرصہ میں تعمیر ہوں گے جن میں سے 10 ہزار گھر اس طبقے کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں جو اپنے پیسے اور وسائل سے گھر خرید نہیں سکتے۔ اس طبقے کے لئے گھروں کی قیمت وہی ہوگی جسے غریب آدمی خرید سکے گا۔ 10 ہزار گھروں کے لئے شفاف طریقے سے قرعہ اندازی ہوگی اور جن کا قرعہ نکلے گا انہیں ڈیڑھ سال کے عرصہ میں گھر بنا کر دیئے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشرے کے غریب اور نادارطبقے کے لئے اپنی چھت کی تعمیر کی کوششوں کے تحت شہروں میں بھی کام کیا جا رہا ہے۔ شہروں میں کچی بستیوں میں لوگ رہ رہے ہیں جن کے پاس نہ مالکانہ حقوق ہوتے ہیں اور نہ انہیں بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ کراچی میں 30 سے 40 فیصد آبادی کچی آبادیوں میں رہ رہی ہے۔ حکومت کوشش کرے گی کہ نجی شعبہ کے ساتھ مل کر کچی بستیوں کے مکینوں کو سہولیات کے ساتھ گھروں کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس میں حکومت زمین فراہم کرے گی، نجی شعبہ آدھی زمین کمرشل استعمال کرے گا جبکہ آدھی زمین پر کچی بستیوں کے مکینوں کو گھر بنا کر دیئے جائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد کے دو سیکٹروں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں کچی بستیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اسکیمیں بھارت، ملائیشیا اور ترکی میں بھی کامیابی سے جاری ہیں۔ پاکستان میں پہلے صرف پیسے والے لوگ اپنا گھر بنا سکتے تھے، حکومت کی اسکیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عام آدمی بالخصوص چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لئے آسان شرائط اور چھوٹی چھوٹی قسطوں کے ذریعے چھت فراہم کی جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں عام آدمی کے لئے گھر بنانے کے مواقع ملتے ہیں لیکن پاکستان میں پہلے یہ سہولت میسر نہیں تھی۔ بھارت میں بینک 10 فیصد، ملائیشیا میں 30 فیصد اور برطانیہ و امریکہ میں 80 سے 90 فیصد گھروں کی تعمیر کے لئے بینک قرضے فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں بینکوں کی جانب سے گھروں کے لئے قرضہ جات کی فراہمی کی شرح 0.2 فیصد ہے۔ اس میں اضافہ کے لئے حکومت قانون سازی پر کام کر رہی ہے۔ حکومت بینکوں سے قرضے حاصل کرنے کے لئے آسانیاں فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، انشاءاﷲ ہماری کوششیں کامیاب ہوں گی۔ اس شعبہ میں باہر سے سرمایہ کاری بھی آ رہی ہے، آنے والے دنوں میں سارے پاکستان میں اس منصوبے کے تحت گھروں کی تعمیر کا آغاز ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ان کا ایک خواب ہے کہ پاکستان کے ان لوگوں کو بھی چھت فراہم کی جا سکے جو اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں عام آدمی کو اپنی چھت کی فراہمی کا خواب پورا ہوگا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر شہری ہوا بازی غلام سرور خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق،سینیٹر فیصل جاوید ، وفاقی دارالحکومت سے رکن قومی اسمبلی اسد عمر، ارکان پارلیمان اور عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ قبل ازیں وزیراعظم نے تختی کی نقاب کشائی کر کے نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا۔
سورس: وی این ایس، اسلام آباد