کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر حل طلب تنازعہ ہے:صدر مملکت

165

اسلام آباد ، 2 اکتوبر (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے غیر قانونی اور مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور اس کی آبادی کے تناسب کو  تبدیل کرنے کے اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی  قانون اور اس کے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی ہے، جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر دیرینہ حل طلب بین الاقوامی تنازعہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملائیشیا کی پارلیمنٹ کے ایوان نمائندگان کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے سپیکر سری داتو محمد عارف بن یوسف کی قیادت میں بدھ کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

صدر مملکت نے وفد کو بتایا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں جہاں5 اگست 2019ء سے لوگ کرفیو میں محصور ہیں۔ مواصلاتی رابطے معطل ہیں اور خوراک و ادویات کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے ساتھ ساتھ امن و سلامتی کے بھی شدید خطرات ہیں۔ بھارت کی فاشسٹ حکومت اپنی فسطائیت پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے اقلیتوں پر ظلم کررہی ہے اور اس نے آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کو لوگوں کو قتل کرنے کالائسنس دے رکھا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جعلی فلیگ آپریشنز کا امکان ہے جس سے خطے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملائیشیاء بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلہ کو اجاگرکرنے، امن وسلامتی کو لاحق خطرات کو دور کرنے اور جموں و کشمیر کے مسئلہ کو پر امن طریقے سے حل کرنے میں کردار اد اکرے گا۔ انہوں نے اسلام کے پیغام کو اجاگر کرنے اور اسلامو فوبیا کو روکنے کے لئے ترکی ملائیشیا اور پاکستان کی قیادت کی جانب سے انگلش ٹی وی چینل کے قیام کے فیصلے کو سراہا۔

صدر مملکت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر، ایف اے ٹی ایف اور آسیان کے پلیٹ فارم پر پاکستان کی حمایت کرنے پر ملائیشیا کوسراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں جنہیں دونوں اطراف سے اعلیٰ سطح کے حالیہ دوروں سے مزید تقویت ملی ہے۔ دونوں ممالک اہم عالمی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ دوطرفہ دوستانہ تعلقات کو آنے والے سالوں میں دونوں ممالک کے عوام کے باہمی فائدے میں مزیدمضبوط بنایا جائے گا۔

وی این ایس، اسلام آباد