سول اور عسکری قیادت ملکر  چیلنجز سے  نبردآزما ہیں:  ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

124

اسلام آباد،17 دسمبر  ( اے پی پی ):وزیر اعظم کی  معاون خصوصی برائے  اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہی کہ سول اور عسکری قیادت ملکر  چیلنجز سے  نبردآزما ہیں اور تمام ریاستی  اداروں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

منگل کو  اٹارنی جنرل انور منصور خان  کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہو ئے  ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سول اور ملٹری قیادت کی انتھک کوششوں  سے مشکلات پر قابو پانے میں  کامیاب ملی، عالمی ادارے پاکستان کے معاشی استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے ملکی دفاع  اور قومی سلامتی کے پلیٹ فارم پر لازوال قربانیاں دیں ہیں اورافواج پاکستان نے اپنے لہو سے ملک میں امن کے دیئے روشن کئے ہیں-

معاون خصوصی نے کہا کہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان نے قربانیاں دیں، ہمارے  جوانوں نے ہر محاذ پر دشمنوں کے دانت کھٹے کیے، افواج پاکستان کا مورال بلند رکھنا قومی فریضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر جشن منانے والے پرویز مشرف سے  حلف لے چکے ہیں، عسکری قیادت نے جمہوری استحکام کیلئے بھرپورمعاونت کی، نادان لوگ فوج پر انگلیاں اٹھا کر ادارے کی تضحیک کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، اداروں کو ٹارگٹ کرنے سے قومی سلامتی داؤ پر لگ رہی ہے، آزادی اظہار رائے   میں قومی سلامتی کو بھی مدنظر رکھا جانا چا ہیے اور اداروں کو کمزور کرنے کی کسی سازش کا ہم نے حصہ نہیں بننا۔انہوں  نے کہا کہ  وزیر اعظم  آج  بھی آئین کی  بالا دستی کی بات  کرتے   ہیں ۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ غیر حاضر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو  سزائے موت سنائی گئی ،  پرویزمشرف کے خلاف  2013میں آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانے کی درخواست دی گئی۔انہوں نے کہا  کہ پرویز مشرف نے ایمرجنسی نفاذ میں شامل دیگر لوگوں کو بھی شامل تفتیش کرنے  کی درخواست دی تھی اور  استغاثہ ٹیم کی تبدیلی کی درخواست  بھی دی گئی تھی،18ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل90میں ترمیم کی گئی، شکایت کنندہ کو کابینہ نے درخواست دائر کرنے کی منظوری نہیں دی تھی۔

انور منصور نے کہا پرویز مشرف  شدید علیل ہونے کے باعث  آئی سی یو میں ہیں، سمجھ سے باہر ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ اتنی عجلت میں کیوں سنایا گیا۔انہوں نے کہا پرویز مشرف کو 342کا بیان قلمبند کرانے کی مہلت نہیں دی گئی، آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت شفاف ٹرائل ہر شخص کا بنیادی حق ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی حیثیت  بھی قانونی طور پر استغاثہ کی ہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا  کہ خصوصی عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو موقف پیش کرنے کی اجازت نہیں دی، خصوصی عدالت کے فیصلے کی کاپی کسی کو بھی ابھی تک میسر نہیں ہو سکی، فیصلے کی کاپی طلب کئے جانے پر بتایا گیا کہ 48 گھنٹے کے بعد  فراہم کی جائیگی۔انہوں  نے کہا کہ سپریم کورٹ ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کررہی ہے ، عدالت نے پرویز مشرف کا ویڈیو لنک کے ذریعے بھی بیان لینے سے انکار کیا۔

انور منصور نے کہا کہ چوہدری شجاعت کی فریق بننے کی درخواست بھی عدالت نے مسترد کی جبکہ  دیگر  بیوروکریٹس کی  بھی  فریق بننے کی درخواستیں مسترد کی گئیں،سازش مان بھی لی جائے تو تمام کرداروں کا موقف سنے بغیر فیصلہ ممکن نہیں۔انہوں نے  مزید کہا کہ تحریک انصاف بلا امتیاز اور شفاف انصاف کی فراہمی کی حامی ہے، آرٹیکل 10 اے کے تحت عملدرآمد نہ کرکے آئین سے روگردانی کی گئی،عدالتیں آزا د ہیں لیکن وہ قانون سے بالاتر فیصلہ نہیں سنا سکتیں۔

وی این ایس اسلام آباد