اقوامِ متحدہ، 11 جولائی (اے پی پی): پاکستان نے کہا ہے کہ سوڈان میں جاری مسلح تنازع نے عوام کو ناقابل تصور مصائب سے دوچار کیا ہے، اور یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ وہ لوگ جنہیں بیس سال قبل ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا تھا ، جب سلامتی کونسل نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو یہ معاملہ بھیجا تھا ، آج بھی اذیت میں مبتلا ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی دارفور (سوڈان) سے متعلق 41ویں رپورٹ پر پاکستان کا قومی بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دو دہائیوں قبل آئی سی سی کو ریفرل کے باوجود، دارفور میں مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ زمزم کیمپ جیسے مقامات پر متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں، اور ان مظالم کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا ضروری ہے۔سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ سوڈان میں انصاف، احتساب اور پائیدار امن کے لیے عبوری انصاف کا حصول استحکام کی کوششوں سے الگ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سوڈان کے قومی عدالتی اداروں کو تکنیکی و دیگر معاونت فراہم کرے تاکہ وہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا سکیں، اور عبوری انصاف کو ملک میں دیرپا امن کی بنیاد بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا: “آئی سی سی اور سوڈانی حکومت کے درمیان تعاون ایسا جامع فریم ورک تشکیل دے جو تکمیلیت اور قومی خودمختاری کا احترام کرتا ہو، پاکستان نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کریں، مکالمے کی راہ اپنائیں، اور جدہ اعلامیے کے تحت سویلین تحفظ و انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق اپنی یقین دہانیوں پر عمل کریں۔
سفیر نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں اور اس پر استثنیٰ کا کلچر اب بند ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا: “سوڈانی عوام کے لیے امید کی کرن ضرور موجود ہونی چاہیے۔”سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ استحکام کے لیے احتساب ناگزیر ہے، اور سوڈان کے قومی عدالتی اداروں کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک متوازن نقطہ نظر جو سوڈان کی خودمختاری اور آئی سی سی کے ساتھ تکمیلی تعاون کا احترام کرے عبوری انصاف کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے عالمی انصاف کے اصولوں پر پاکستان کے مستقل مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ چناؤ کی بنیاد پر احتساب اور دہرا معیار عالمی انصاف کے نظام کو غیر معتبر بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفیر نے سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ سوڈان میں فوری جنگ بندی، سیاسی حل، اور ملک کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔
پاکستان نے انسانیت کے خلاف جرائم کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے عالمی کوششوں میں اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ، چاہے وہ دارفور میں ہوں یا دنیا کے کسی اور حصے میں۔











