اسلام آباد، 24 دسمبر(اے پی پی ):عالمی مالیاتی فنڈکی پاکستان کے لئے نمائندہ ٹریسا دبان سانچز نے توسیعی فنڈ کی سہولت (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کی معاشی کارکردگی کے پہلے جائزہ کے حوالے سے غلط فہمی دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مجموعی معاشی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے، انکا کہنا تھا کہ ٹیکسوں کی وصولی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور تجارتی خسارے اور خالص غیر ملکی اثاثوں میں بہتری آئی ہے ۔
آج پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام” توسیعی فنڈ کی سہولت”( ای ایف ایف) کے تحت 39 ماہ کے انتظامات کے پہلے سہ ماہی جائزہ پر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے گفتگو کرتے ہوئےٹریسا دبان کاکہنا تھا کہ بدقسمتی سے آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ کو مکمل طور پر سمجھنے میں غلطی کی وجہ سے بعض غلط فہمیوں نے جنم لیا جنکی وضاحت ضروری ہے۔
ٹریسا دبان سانچز نے کہا کہ پاکستان میں افراط زر کی شرح مستحکم ہونا شروع ہوچکی ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مستحکم پالیسیوں کی وجہ سے عوامی قرض کی صورتحال میں بھی بہتری آئی ہے جبکہ مارکیٹ شرح تبادلہ میں بہتری حکومت کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈکی پاکستان کے لئے نمائندہ نے کہا کہ حکومت پبلک فنانس مینجمنٹ کے نئے قانون کی مدد سے اخراجات پر قابو پانے اور مرکزی بینک سے قرض لینے سے بچنے میں بھی کامیاب رہی اور اقتصادی استحکام میں نرمی آرہی ہے کیونکہ معیشت استحکام کی نئی پالیسیوں کے مطابق ہے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر عابد قیوم سلیری نے کہا کہ آئی ایم ایف کی طرف سے پہلی سہ ماہی کارکردگی کا جائزہ لینے کے باوجود آئی ایم ایف کے پہلے جائزہ سے ہمارے قومی میڈیا پر غلط فہمیوں نے جنم لیاہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اس گفتگو کے انعقاد کا مقصد پہلی کارکردگی کے جائزے کے ارد گرد ان غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام اور اس کا جائزہ پاکستان کے لئے معاشی پالیسی سازی کے حوالے سے حکومت کے آگے چلنے اور قلیل مدتی ،وسط مدتی اور طویل مدتی نظریے کا تعین کرے گا۔
وی این ایس ، اسلام آباد