19سال بعد 8ویں متفقہ ویج ایوارڈ کا اعلان، صحافتی اداروں میں کم سے کم اجرت 17500 مقرر

172

اسلام آباد ، 24 دسمبر (اے پی پی): وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے19سال کے بعد 8ویں متفقہ ویج ایوارڈ کا اعلان کر دیا ہے، صحافتی اداروں میں کم سے کم اجرت 17500، ایڈیٹر ،سپیشل گریڈ، میٹروپولٹین، ریجنل کیٹگریز کی تنخواہوں میں 300فیصد تک اضافہ مقرر کیا گیا ہے ، وزیراعظم عمران خان کے ویژن حق حقدار تک پہنچانے کا وعدہ پورا کر دیا ہے، 8ویں متفقہ ویج بورڈ ایوارڈ پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا ۔

منگل کی شام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ویج بورڈ کے چیئرمین جسٹس (ر) حسنات احمد خان، ویج بورڈ کے ممبران محمد نواز رضا، ناصر چشتی، خانزادہ شہزادہ ذوالفقار، شعیب الدین، بخت رضا یوسفزئی، صحافتی تنظیموں کے عہدیداران کے ہمراہ 8ویں ویج ایوارڈکا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ایڈیٹر گریڈ،سپیشل گریڈ کے ایک تا چارتک کے لئے 145فیصد اضافہ، میٹرو پولیٹن اے گریڈ گروپ 8 کے لئے تنخواہ میں 134فیصد، میٹرو پولیٹن بی گریڈ5 تا 8کے لئے بالترتیب 219،239، 240اور250فیصد، ریجنل اے گریڈ 5 تا 8کے لئے بالترتیب267،270 اور277 فیصد، ریجنل بی گریڈ 5تا 8تک کے لئے 359,361,363 اور 384فیصد، اے گریڈ 5 تا 8 کے لئے 144,146 ,147 اور152فیصداضافہ کیا گیا ہے جبکہ میٹروپولیٹن اے کو 25کروڑ سالانہ آمدن کے ساتھ جوڑا گیا ہے ۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آج 19سال بعد 8ویں ویج ایوارڈ کے اعلان سے حکومت نے حق کے تحفظ کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دیا ہے، آپکا حق آپ تک پہنچانا حکومت کا فرض اور اولین ترجیح ہے، آج وہ خوشگوار لمحہ آگیا ہے کہ ویج ایوارڈ کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے جسٹس(ر) حسنات احمد خان نے اپنے 5ممبران کے ہمراہ دن رات محنت کر کے صحافتی تنظیموں کے ساتھ مشاورت کے لئے 130اجلاسوں کا انعقاد کیا جس میں پہلی مرتبہ 108گواہان کو سنا گیا ، 2001کا ویج ایوارڈ عدالتوں میں چیلنج رہا اور 2011ءمیں عمل ہوا تھا۔

معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے 18سال سے ویج ایوارڈ کے لئے جدوجہد کرنے والی صحافتی تنظیموں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی مرکزی ،صوبائی تنظیموں ، پریس کلبز، الیکٹرانک میڈیا تنظمیوں ، اے پی این ایس، سی پی این ای اور اس سے جڑی تنظیموں کی نیک نیتی اور پرعزم ہو کر آواز بلند کرنے کی جدوجہد کی بدولت یہ کامیابی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذات کا نہیں میڈیا اور صحافت کے کاز کا ایشو تھا جو کہ حل ہو چکا ہے، سب مبارکباد کے مستحق ہیں، اس ایوارڈ کے اجراءمیں ممبران اور چیئرمین کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔

معاون خصوصی  نے کہا کہ 8ویں ویج ایوارڈکے لئے جو ٹی او آر بنائے گئے اس میں کم سے کم ویج حکومت پاکستان کے کم سے کم ویج کے مساوی رکھا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ویج ایوارڈ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں ممبران اورتمام صحافتی تنظیمیں اکٹھی ہیں، انوکھا کام ہے، صحافتی برادری کو کریڈٹ جاتا ہے کہ الیکٹورل پراسیس میں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑنے والے صحافتی برادری کے کاز پریکجا ہو کر ہم آواز ہوئے ہیں، یہ اسی اتفاق کا کمال ہے ۔

8ویں ویج بورڈ کے چیئرمین جسٹس (ر) حسنات احمد خان نے کہا کہ 8ویں ویج ایوراڈ کے لئے مالکان کی طرف سے کوئی دباﺅ نہیں تھا اورنہ کوئی دباﺅ ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ2001میں آخری ویج ایوارڈ تھا، سب سے پہلا ایوارڈ اتفاق رائے سے آیا اس کے بعد جتنے آئے اس میں اتفاق رائے نہیں تھا ،زیادہ تر مالکان کا بائیکاٹ ہوجاتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ صحافتی برادری کی تنخواہوں میں اضافہ توقعات کے مطابق نہیں ہے لیکن جتنا ممکن تھا اتنا کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ویج ایوارڈ اتفاق رائے سے طے ہوتا ہے تو اس پر عمل درآمد کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عبوری ویج ایوارڈ پر بھی کہا تھا اور اب بھی یہ تجویز ہے کہ حکومت ان اخبارات کو سرکاری اشتہارات دیں جو 8ویں ویج ایوارڈ پر عملدرآمد کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 8ویں ویج ایوارڈ کی تیاری کے دوران شروع میں اخباری مالکان کے تحفظات تھے لیکن جب اکٹھے بیٹھے ہیں تو آخر تک مالکان ہمارے ساتھ چلے ہیں، ہمارے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے، اس ویج ایوارڈ کے لئے دن رات کی محنت شامل ہے108گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں، پہلی مرتبہ مالکان کی جانب سے مطالبہ آیا کہ ہمیں بھی موقع دیا جائے ،دونوں فریقین کو سننے کے بعد ہم نے اتفاق رائے سے 8واں ویج ایوارڈ طے کیا ہے ۔

وی  این ایس ، اسلام آباد

Download Video