امریکہ نے تیل و گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کروائی ہے؛ عبدالرزاق داﺅد

135

اسلام آباد ، 27 فروری (اے پی پی): وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل عبدالرزاق داﺅد نے کہا ہے کہ امریکہ نے تیل و گیس کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کروائی ہے، امید ہے ایگزون کمپنی پاکستان میں آ جائے گی، افغان امن معاہدے کے بعد پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرزاق داﺅد نے  کہا کہ  پاکستان امریکہ کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے، امریکہ سے جی ایس پی سہولت پر بات ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک امریکہ کے لیے کھلا ہے، ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ سی پیک میں امریکہ کی سرمایہ کاری پر پابندی ہے۔

مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ وزیر اعظم نے جولائی میں امریکہ کا دورہ کیا تھا، وزیر اعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان زبردست ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن معاہدے کے بعد پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، پاکستان امریکہ کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے، امریکہ نے مختلف شعبوں میں پائی جانیوالی کمزوریوں کی نشاندہی کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے جی ایس پی کی سہولت پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور امریکہ نے ٹیفا کا اجلاس بلانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

مشیر برائے تجارت نے کہا کہ امریکہ سے کہا ہے کہ بڑی کمپنیوں کے دفاتر پاکستان میں کھولے جائیں، ان کمپنیوں کے دفاتر انڈیا, بنگلہ دیش اور کمبوڈیا میں پہلے ہی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر سے ٹریول ایڈوائزری کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ امریکہ سے ای کامرس، زراعت اور تیل گیس میں سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کا معاملہ اٹھایا ہے، امریکہ سے آزادانہ تجارت کے معاہدہ پر ایک طویل وقت لگتا ہے، امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سرمایہ کاری آہستہ آہستہ بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی توسیع کے لئے برسلز کادورہ کیا تھا، جی ایس پی پر اثرانداز ہونے والے افراد کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی تھی، جی ایس پی پلس کے مستقبل کے حوالے سے جلد پتا چل جائے گا۔

مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کے حوالے سے نئے قوانین متعارف کروائے جائیں گے۔ کرونا کے باعث تجارتی نقصان کے بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے، کرونا وائرس کے باعث چین سے درآمدات کم ہوگئی ہیں، کرونا کے باعث ہماری برآمدات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے برآمدات بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے تاکہ برآمدات کو فروغ دے کر معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ حکومت نے کاروبار میں آسانیاں کر کے اور برآمدات میں اضافے کے لئے اصلاحات کیں جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

اے پی پی /ڈیسک/ھامد