حکومت  جامع قومی بیٹری انرجی سٹوریج فریم ورک پر  کام کر رہی ہے جس میں حفاظتی معیارات، گرڈ کنکشن، تکنیکی تقاضوں اور سرمایہ کاروں کے کیلئے واضح قواعد و ضوابط شامل ہونگے،  وفاقی وزیرسردار اویس احمد خان لغاری

8

اسلام آباد،4اگست  (اے پی پی):وفاقی وزیر  برائے توانائی   سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں  تاریخی تبدیلی سے گزر رہا ہے، گزشتہ مالی سال کے اختتام تک آزادانہ تخمینوں کے مطابق ملک میں ڈسٹری بیوٹڈ سولر کی استعداد تقریباً 38 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جو یوٹیلیٹی سطح کی مجموعی پیداواری استعداد کے قریب ہے،  حکومت ایک جامع قومی بیٹری انرجی سٹوریج فریم ورک پر بھی کام کر رہی ہے  جس میں حفاظتی معیارات، گرڈ کنکشن، تکنیکی تقاضوں اور سرمایہ کاروں کے لیے واضح قواعد و ضوابط شامل ہوں گے۔

منگل کو سولر، سٹوریج اور فلیکسیبلٹی  کانفرنس2026  سے خطاب کرتے ہوئے  وفاقی وزیر  نے کہا کہ سولر، سٹوریج اور فلیکسیبلٹی محض تین اصطلاحات نہیں بلکہ آج پاکستان کے بجلی کے شعبے کو درپیش سب سے بڑے تکنیکی اور پالیسی چیلنج کی عکاسی کرتی ہیں، قومی گرڈ یک طرفہ بجلی کی ترسیل کے تصور کے تحت تشکیل دیا گیا تھا جبکہ آج وہ لاکھوں گھروں اور کاروباری مراکز کی چھتوں پر نصب سولر سسٹمز سے بجلی وصول کر رہا ہے جس کے نتیجے میں دن کے اوقات میں بجلی کی طلب کم ہو رہی ہے جبکہ شام کے اوقات میں طلب بدستور بلند رہتی ہے۔  دنیا کے کئی ممالک نے جس صورتحال یعنی”ڈک کَرو”سے نمٹنے کے لیے ایک دہائی تک تیاری کی پاکستان آج اسی مرحلے کا سامنا غیر معمولی رفتار سے کر رہا ہے، یہ کامیابی کسی حکومتی سبسڈی یا طویل المدتی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی شہریوں، کسانوں، صنعتکاروں، تاجروں اور گھریلو صارفین کے انفرادی فیصلوں کا ثمر ہے جنہوں نے کم لاگت اور قابلِ اعتماد توانائی کے حصول کے لیے سولر ٹیکنالوجی کو اپنایا، یہ حقیقی معنوں میں عوام کی قیادت میں آنے والا توانائی انقلاب ہے جو اس حقیقت کا مظہر ہے کہ جب جدید ٹیکنالوجی سستی اور قابلِ رسائی ہو تو پاکستانی قوم انتظار نہیں کرتی بلکہ خود آگے بڑھ کر فیصلہ کرتی ہے۔   انہوں نے واضح  کیا کہ  پاکستان کو آج بجلی پیدا کرنے کا مسئلہ درپیش نہیں،  ہمارے پاس بجلی کی اضافی پیداوار موجود ہوتی ہے، اصل مسئلہ اس اضافی سولر توانائی کو محفوظ کر کے شام کے اوقات میں استعمال کے قابل بنانا ہے،  یہی وہ فلیکسیبلٹی ہے جس کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

 اویس لغاری نے کہا کہ آج توانائی کے تحفظ پر گفتگو صرف ملکی تناظر میں نہیں کی جا سکتی، گزشتہ چند ماہ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی تنازعات کس طرح توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، شپنگ روٹس اور ایندھن کی فراہمی کو متاثر کرتے ہیں،  پاکستان جیسے ملک کے لیے جو اب بھی اپنی تھرمل بجلی کی پیداوار کے لیے بڑی حد تک درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، ایسی غیر یقینی صورتحال نہ صرف مالیاتی استحکام بلکہ عوامی زندگی پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ  مقامی ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کا ہر یونٹ پاکستان کی توانائی خودمختاری کو مضبوط کرتا ہے،  سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی وہ اثاثے ہیں جنہیں نہ کوئی عالمی تنازعہ متاثر کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی بیرونی منڈی کا اتار چڑھاؤ، تاہم بیٹری انرجی سٹوریج ان ذرائع کو حقیقی معنوں میں قابلِ اعتماد بناتا ہے تاکہ بجلی صرف سورج کی روشنی میں ہی نہیں بلکہ اس وقت بھی دستیاب ہو جب عوام کو اس کی ضرورت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپریل میں  قطر سے آر ایل این جی کی فراہمی میں تعطل کے باعث رات کے اوقات میں بجلی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا جبکہ دن کے وقت سولرائزیشن نے بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اسی لیے بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز صرف گرڈ کے توازن کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی اور توانائی سلامتی کا اہم ستون ہیں۔

وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ  پاکستان کی بجلی کا تقریباً 55 فی حصہ پہلے ہی پن بجلی، نیوکلیئر، ہوا اور شمسی توانائی سمیت صاف ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے، حکومت کا واضح ہدف ہے کہ2035 تک اس تناسب کو 90 فیصد تک پہنچایا جائے،  صرف قابلِ تجدید توانائی کی استعداد بڑھانے سے یہ ہدف حاصل نہیں ہوگا، اگر بیٹری سٹوریج اور گرڈ فلیکسیبلٹی میں متوازی سرمایہ کاری نہ کی گئی تو ہر نئی سولر یا ونڈ صلاحیت گرڈ کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی، اس لیے بیٹری سٹوریج اس پورے سفر کا بنیادی ستون ہے جو ہمارے اہداف کو قابلِ عمل، قابلِ اعتماد اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بناتا ہے، صاف توانائی  میں سولر  کے بعد  اگلا باب حکومت، ریگولیٹرز، صنعت، سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو مل کر بیٹری سٹوریج اور فلیکسیبلٹی کے ذریعے رقم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ  ہمارا مقصد صرف درآمدی بیٹریوں پر انحصار کرنا نہیں بلکہ پاکستان میں بیٹری پیک، انکلوژرز، سسٹم انٹیگریشن، انجینئرنگ، سافٹ ویئر اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے تاکہ اس تبدیلی کی معاشی قدر بھی  ملک کے اندر ہی پیدا ہو، اسی مقصد کے تحت وزارتِ صنعت و پیداوار بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز کی مقامی مینوفیکچرنگ پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے جس کے ذریعے مقامی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

 انہوں نے بتایا کہ  حکومت نے اس شعبے میں مؤثر پیش رفت کے لیےقومی بیٹری انرجی سٹوریج اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے جس کی سربراہی مجھے سونپی گئی ہے، اس کے ساتھ ٹیکنیکل اور ریگولیٹری ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے گئے ہیں تاکہ بیٹری سٹوریج کے لیے واضح مارکیٹ، مؤثر ضوابط اور سرمایہ کاری دوست فریم ورک تیار کیا جا سکے،اسی سلسلے میں ڈسکوز میں بیٹری سٹوریج کے پائلٹ منصوبوں کی منظوری بھی دی جا چکی ہے تاکہ عملی تجربات کی بنیاد پر مستقبل کی پالیسی اور ریگولیشن تشکیل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی حکومت ایک جامع قومی بیٹری انرجی سٹوریج فریم ورک پر بھی کام کر رہی ہے جس میں حفاظتی معیارات، گرڈ کنکشن، تکنیکی تقاضوں اور سرمایہ کاروں کے لیے واضح قواعد و ضوابط شامل ہوں گے،اس کے لیے  ہمیں اپنے ترقیاتی شراکت داروں کی تکنیکی معاونت، سرمایہ کاروں کے اعتماد، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے تجربے اور پاکستانی انجینئرز و صنعتکاروں کی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔

 اویس لغاری نے کہا کہ ہم ایسی رپورٹس نہیں چاہتے جو صرف فائلوں کی زینت بنیں بلکہ ایسی قابلِ عمل سفارشات چاہتے ہیں جو پاکستان کے توانائی مستقبل کی سمت متعین کریں،ہم ایسا پاکستان تعمیر کر رہے ہیں جو اپنی توانائی کے لیے عالمی غیر یقینی صورتحال پر نہیں بلکہ اپنے سورج، اپنے انجینئرز، اپنی صنعت اور اپنی صلاحیتوں پر انحصار کرے۔