وزیراعظم آزاد کشمیر ،نیول چیف کا بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو مزید اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور

146

اسلام آباد ، 28 فروری (اے پی پی): آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو مزید اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے  تاکہ کشمیریوں کا ان کا حق مل سکے۔

ان خیالات  کا  اظہار انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے زیر اہتمام بحریہ یونیورسٹی کراچی میں “مسئلہ کشمیر بھارتی آئین کی دفعات 35A اور 370، پاکستان کے پاس موجود آپشنز اور بھارت میں ہندوتوا نظریات کا فروغ” کے عنوان سے  منعقدہ  ایک روزہ سیمینار  سے خطاب  کرتے ہوئے   کیا۔چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے سیمینار کے دوسرے سیشن میں بطور گیسٹ آف آنر شرکت کی۔

آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق خود ارادیت مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو مزید اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کشمیریوں کا ان کا حق مل سکے۔

 چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے اپنے سیمینار کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا بھارتی اقدام ہندوتوا نظریہ کو فروغ دینے کی بھارت کی حکومت کی پالیسی کا ایک اور مظہر ہے جس کا مقصد بھارت کو انتہاءپسند ہندو اکثریتی ہندوستان میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر بنیادی تنازعہ ہے جس کے سمندری سلامتی کی صورتحال پر بھی شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں، پاک بحریہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے بخوبی واقف ہے اور وہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کےلئے تیار ہے۔

سیمینار کے دوران نمایاں سپیکرز  میں  سینیٹر مشاہد حسین سیّد، سابق سفیر عبدالباسط، سابقہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، گروپ کیپٹن سلطان محمد حالی (ر) اور ڈاکٹر رابعہ اختر کے علاوہ نامور پالیسی میکرز، دفاعی تجزی کاروں اور تعلیم کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل  تھے ،  جنہوں  نے مسئلہ کشمیر کے تاریخی، قانونی، اخلاقی اور سماجی و سیاسی پہلوﺅں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے فاشسٹ ہندوتوا نظریات کے فروغ پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔

مقررین نے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے اور کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کو منظر عام پر لانے کےلئے موثر سفارتی اور میڈیا مہم کی ضرورت پر زور دیا، اس تناظر میں کشمیر کی موجودہ صورتحال میں موثر کردار ادا کرنے کےلئے پاکستان کے پاس موجود پالیسی آپشنز پر بھی غور کیا گیا۔

قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز وائس ایڈمرل عبدالعلیم نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کے ساتھ ساتھ بھارتی مسلمانوں کے بعض طبقات کو بھارتی شہریت سے محروم کرنے کے بارے میں بھی بات کی جو ابھرتی ہوئی بھارتی انتہاءپسندی کا واضح ثبوت ہے۔

سیمینار میں سول اور تینوں مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے افسران کے علاوہ تعلیمی ماہرین، بحریہ یونیورسٹی کے طلبہ، فیکلٹی، میڈیا کے نمائندگان، مقامی تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں کے محققین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اے پی پی /ڈیسک/حامد