اسلام آباد، فروری 11 ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے امید ظاہر کی ہے کہ نیا قومی یکساں نصاب ملک میں پہلے سے رائج انگلش میڈیم نصاب سے بہتر ہو گا۔ وہ منگل کو چار روزہ قومی کانفرنس برائے یکساں قومی نصاب (پہلی سے پانچویں جماعت) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس کا سلوگن ”ایک قوم ایک نصاب“ رکھا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے، ہم ایک یکساں تعلیمی نظام کو ملک میں متعارف کرانے میں کامیاب رہے جس سے معاشرے میں نئی اصلاحات پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اپنی نئی نسل پر فخر کرتے ہوئے اسے باصلاحیت قرار دیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو اس بات کا ادراک ہے کہ ملک میں رائج مختلف نصاب معاشرہ میں تقسیم پیدا کر رہے ہیں اور یہ معاشرہ اور طبقات میں خلیج ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے انہیں نئے قومی یکساں نصاب کی ذمہ داریاں سونپی ہیں تاکہ ایک قوم کے خواب کی تعبیر کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف طبقاتی تعلیمی نصابوں نے ہمارے طلباءاور نوجوانوں کی سوچ میں فرق پیدا کر دیا ہے، ملک میں یکساں نصاب رائج کرنا ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکساں تعلیمی نصاب کو رائج کرنے میں ہمیں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جس میں قومی نصاب کیلئے زبان کا انتخاب اور طریقہ امتحان بھی شامل ہے۔ ماہرین تعلیم ان تمام چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے کام کررہے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ نیا یکساں تعلیمی نصاب اپریل 2021ءتک نافذ ہو جائے گا ۔
وی این ایس اسلام آباد











