چیئرمین فیصل جاوید کی زیر صدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس

200

اسلام آباد ، 11 فروری (اے پی پی) :سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات نے میڈیا اداروں کوملازمین کو 2 ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی کیلئے 2 ہفتے کی ڈیڈلائن دے دی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی فیصل جاوید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں کمیٹی نے میڈیا اداروں کے ملازمین کو 2 ہفتے میں 2 ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 25 فروری تک دو تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا ادارے توہین پارلیمنٹ کے منتخب قرار پائیں گے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت اطلاعات اور پیمرا کو 2 ہفتوں میں 2 تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام صحافتی تنظیموں سے نادہندہ صحافتی اداروں اور تنخواہ سے محروم صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی فہرست طلب کی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایوان میں پی آر اے نے بائیکاٹ کیا تھا، ایک اور کیمرامین کا انتقال ہو گیا ہے ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے مسئلے کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، کمیٹی نے اس مسئلے پر تین نشستیں کی ہیں،گزشتہ اجلاس کی سفارشات کا کوئی فیڈ بیک نہیں آیا، ہم نے فی الفور تنخواہوں کی ادائیگی کا کہا تھا۔ تنخواہیں ادا نہ ہونے پر پی آراے نے گزشتہ روز سینیٹ کی پریس گیلری سے واک آﺅٹ کیا۔اس مسئلہ کا فوری حل ضروری ہے ۔ سینیٹر رحمان ملک نے تجویز  پیش کی کہ ایک ارب روپے کے قریب واجبات ہیں جو حکومت نے ادا کرنے ہیں، یہ پیسے ایک اسپیشل اکاﺅنٹ کھول کر ٹرانسفر کیئے جائیں اور وزارت اطلاعات کے ذریعے میڈیا ملازمین کو بقایاجات ادا کیئے جائیں اور تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے ایوان میں قرار داد لائی جائے، کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی سینیٹر رحمان ملک کی تجویز سے اتفاق کیا۔ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سپیشل اکاﺅنٹ کے ذریعے تنخواہوں کی ادائیگی کا طریقہ اختیار کرنے میں کئی پیچیدگیاں حائل ہیں۔ انہوں نے کہا صحافیوں کی تنخواہوں کے مسئلہ کے حل کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آواز اٹھ رہی ہے۔ وزارت اطلاعات کے پاس اتھارٹی نہیں کہ طاقت کے زور پر تنخواہیں ادا کرائیں۔

 وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ویج ایوارڈ کمیٹی کی اچیومنٹ ہے ، یہ نوٹیفائی ہوگیاہے، وزیر اعظم نے ہدایات دی ہیں کہ صحافیوں کے راستے کے کانٹے چنیں ۔ رکن کمیٹی سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ تنخواہوں کا بڑا سنجیدہ مسئلہ ہے ، ہم تکنیکی قسم کی بحث میں الجھ گئے ہیں ، رحمان ملک کی پریکٹیکل تجویز ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کی پامالی ہے کہ کسی ادارے کے ملازمین کو تنخواہ نہیں مل رہی۔ سینیٹر انوار الحق نے کہا کہ حکومت نے اگر ایک ارب روپے میڈیا اداروں کو دینے ہیں تو ان سے ٹیکس کی مد میں وصول کتنے کرنے ہیں؟کمیٹی نے میڈیا اداروں کو ہدایت کی کہ 2 ہفتوں میں ملازمین کی دو مہینوں کی تنخواہ کی جائے ،جبکہ اے پی این ایس، پی بی اے اور پی آر اے ان میڈیا ورکرز کی فہرست فراہم کریں جن کو کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں، 25 فروری کے بعد کمیٹی اجلاس دوبارہ ہوگا جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

وی این ایس اسلام آباد

Download Video