کراچی، 7 مارچ (اے پی پی): عکس کے زیر اہتمام ہفتہ کو یہاں مقامی ہوٹل میں عالمی یوم خواتین کے حوالے”میڈیا میں خواتین ، پیجز فرام دی پاسٹ” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔
سیمینار سے عکس ڈائریکٹر تنسیم احمر، سینئر صحافی زہرہ یوسف، اخبار خواتین میں کام کرنے والی سینئر صحافی حمیر اطہر، جامعہ کراچی کے سابق پروفیسر و ڈان نیوز سے وابستہ صحافی شاہدہ قاضی، پاکستان ٹیلی ویژن سے پروگرام کرنے والی میزبان رعنا شیخ، سینئر صحافی زبیدہ مصطفی نے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پینل میں موجود دیگر شرکاءنے بھی اپنے کیئریرکے حوالے سے شرکاءکو آگاہ کیا اور پرانی یادیں دہرائی۔
پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور پروگرام میزبان کام کرنے والی رعنا شیخ نے بتایا کہ آج کے مقابلے میں ہمیں زیادہ ذامہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق اور آگاہی کے حوالے سے جب پروگرامز کرتے تھے تو معاشرے میں کچھ لوگ اس پر تنقید بھی کیاکرتے تھے اور بعض دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ کچھ پروگرامز نشر ہونے کے بعد اس کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے۔
پروفسیر شاہدہ قاضی نے بھی اپنے کیئریئر کے حوالے سے دلچسپ واقعات سنائے انہوں نے کہا کہ ہمارے زمانے میں لڑکیوں کے لئے دو ہی شعبہ مختص تھے ایک میڈیکل کا اور دوسرا تعلیم کا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں جامعہ کراچی میں داخلہ لینے گئی اور وہاں مجھے جرنلزم کے شعبہ کے بارے میں معلوم ہوا تو میں نے طے کیا کہ میں نے جرنلزم پڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جرنلزم کے شعبہ میں داخلہ لینے والی میں پہلی لڑکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے جرنلزم میں ماسٹر کیا اوراس کے بعد ملازمت کی تلاش میں ڈان نیوز گئی تو وہاں میری ملاقات ڈان نیوز کے سٹی ایڈیٹر شمیم احمد سے ہوئی اور مجھے کل سے بطور رپورٹر کام کرنے کا کہا۔
شاہدہ قاضی نے مزید بتایا کہ جب گھر میں ملازمت کے حوالے سے بتایا تو والد صاحب نے میری حوصلہ افزائی کی اور میں نے بطور رپورٹر ڈان میں کام شروع کیا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے ڈان میں کام کرنے پر فخر ہے اور روزنامہ ڈان نے میری شخصیت سازی پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کئیں۔
سینئر صحافی زبیدہ مصطفی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے لکھنے کا بہت شوق تھا اور سکول کے دورسے ہی اساتذہ میری تحریروں کی تعریف کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی ذمہ داریاں دہری ہوتی تھی، پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے ساتھ گھرکے کام بھی کرنے ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا روزنامہ ڈان میں جو کام کیا ہے اس سے بہت مطمئن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خبروں کے حوالے سے ایڈیٹر کی طرف سے کوئی پابندیاں نہیں تھی۔
سینئر صحافی مہناز نے کہا کہ پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے ادائیگی کے دوران جو مسائل دیگر شعبہ میں کام کرنے والی خواتین کی ہوتی تھی، صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے خواتین کو بھی ان مسائل کا سامنا ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرا تعلق ایک متوسط طبقہ سے تھا اور اسی لئے مجھے وہ مراعات حاصل نہیں تھی جو امراءکو حاصل ہوتی تھی۔ اس لئے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے ساتھ گھر کے کام خود کرنے پڑھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرا جرنلزم سیاست سے جڑا تھا اور میں سیاست کی وجہ سے جرنلزم میں آئی تھی اور ہم لفٹ کی سیاست کرتے تھے اور اس کی کامیابی کے لئے جدوجہد کرتے تھے۔ انہوں نے کہا اس کی وجہ سے زندگی میں کئی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
سورس: وی این ایس، کراچی











