اسلام آباد ، 15اپریل ( اے پی پی ): وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن شفقت محمود نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کاعالمی آن لائن مشاعرہ وبا کے دنوں میں ادب سے لگاﺅ رکھنے والوں کے لیے اورگھروں میں محصور اہل قلم کی صحت مندانہ ادبی سرگرمی ہے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے بدھ کو اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام پاکستان میں پہلی بارمنعقدہ آن لائن مشاعرہ میں بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کیا ، مشاعرہ کی صدارت افتخار عارف نے کی ۔ویڈیو لنک کے ذریعہ پورے ملک اور دنیا بھرسے شعرا نے کلام پیش کیا، سو سے زائد سامعین نے آن لائن مشاعرہ سنا۔
شفقت محمود نے کہا کہ حکومتی اداروں ،سماجی تنظیموں اور افراد کے باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشوں کے بغیر اس وبائی صورت حال اور اس کے منفی اثرات سے نکلنا ممکن نہیں، تمام حکومتی ،سماجی ادارے اور ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی حفاظت کی ذمہ داری کا احساس رکھتی ہے۔ عالمی تناظر میں دیکھیں تو ہمارا خطہ ایسا ہے جہاں مشکلات زیادہ اور وسائل کم ہیں لیکن حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ غریب عوام کو مشکلات کا کم سے کم سامنا ہو۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ اکادمی ادبیات پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ اہل علم کے رابطہ کے دائرہ کو کئی ملکوں بلکہ براعظموں تک پھیلا دیا ہے۔ وائرس نے باہمی حفاظت کے اقدام کے تحت گھروں تک محدود کردیا ہے جس سے یکسانیت کا ماحول پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ اکادمی کی آن لائن سرگرمیاں ادب سے محبت رکھنے والوں کے لیے انسپیریشن کا باعث بنے گی۔ حالات بہتر ہوں گے اور روزمرہ زندگی کی معمول کی رونقوں کی طرف پلٹیں گے تو یقینا اکادمی ادبیات پاکستان جدید وسائل کا استعمال بہتر طورپر کر کے اہل قلم کے باہمی رابطوں کو مزید فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ اکادمی نے “امید زیست ایوارڈ ” اقدام جو کرونا کی وبائی صورت حال کے تناظر میں شعرا کی تخلیقی کاوشوں کی پذیرائی کی ایک صورت ہے اچھی کاوش ہے۔ اکادمی کی ویب سائٹ پر شعری تخلیقات پیش کی جا رہی ہیں جس میں پاکستان کے مختلف زبانوں کے شعرا بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں خاص طور پر ملک کے دور دراز کے علاقے جہاں کے شاعروں اور ادیبوں کی آوازیں مرکزی دھارے تک کم پہنچتی ہیں انھیں بھی اس صورت میں ایک پلیٹ فارم مہیا ہوا ہے۔ اکادمی وبائی صورت حال کے خاتمے کے بعد بھی دوردراز کے علاقوں کے ادیبوں سے رابطے استوار رکھے تاکہ پورے پاکستان کے اہل قلم کے جذبات و احساسات کی پذیرائی ممکن ہو سکے۔
چیئرمین، اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ وفاقی وزیر، شفقت محمود کی سرپرستی میں اکادمی کو جدید خطوط پر آگے بڑھاتے ہوئے ادب کے فروغ اور ادیبوں کی فلاح و بہود کے منصوبوں پر تیزی سے کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن ادبی سرگرمیوں سے گھروں میں محدود ادب سے لگاﺅ رکھنے والے احباب رابطہ میں رہیں گے اوراہل قلم یک دوسرے سے اس ماحول میں تنہائی اور نفسیاتی کرب سے نکل کر اجتماعی زندگی اورسماجی روابط سے منسلک ہو جائیں گے۔
اے پی پی/ عمار برلاس /قرۃالعین











