ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی ہفتہ وار بریفنگ

0
56

اسلام آباد ۔ 21 مئی (اے پی پی): پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قانون کے ذریعہ کشمیری عوام کو حقوق سے محروم کرنے کے بھارتی حکومت کے مذموم عزائم کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ نئے ڈومیسائل قانون کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعہ ان کے حق خودارادیت کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی  نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ خصوصاً اس وقت بھارتی غیر قانونی اقدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ بھارت عالمی برادری کا کووڈ19 وبائی امراض کے چیلنج سے نمٹنے میں مصروفیت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے ،جو آر ایس ایس۔ بی جے پی اتحاد کی موقع پرستانہ اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام نے اس سے قبل کئے گئے بھارتی غیر قانونی اقدامات کی طرح نئے ڈومیسائل قانون کو ”ناقابل قبول“ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ کشمیری عوام اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے، سیاسی اور معاشی طور پر پسماندہ رکھنے اور اپنی شناخت سے محروم رکھنے کے مذموم ”ہندوتوا“ کے ایجنڈے کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ دنیا بھر سے جموں و کشمیر کے عوام پر غیر انسانی ظلم اور بھارت میں اقلیتی برادریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی مسلسل مذمت ہو رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کے بارے میں آزاد مستقل کمیشن کی جانب سے بھارتی حکومت کے حال ہی میں متعارف کرائے گئے جموں اینڈ کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفیکٹ (پروسیجر) رولز 2020 سے متعلق بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ او آئی سی نے اپنے بیان میں ہندوستان کے اس اقدام کو ”نوآبادیاتی آبادکاری“ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ او آئی سی نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کی قراردادوں کی پاسداری کرانے میں اپنا کردار ادا کریں اور کسی بھی ایسے انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات سے روکیں جو جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہو۔ ترجمان نے کہا کہ پچھلے چند دنوں میں دبئی سے 445 پاکستانی شہری، فرانس اور دیگر ہمسایہ ممالک بشمول بیلجیئم، اٹلی، پولینڈ 150 اسپین سے 105، کینیڈا سے 250، عراق سے 257، سوڈان سے 249، 250 سے وطن واپس آئے تھے۔ جدہ، 237 انڈونیشیا سے اور 331 پاکستانی قیدیوں کو ملائیشیا سے واپس لایا گیا۔

نیوز  ڈیسک،فاروق