سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی اجلاس، ایم ایل ون منصوبے کو حتمی منظوری کیلئے ایکنک کو بھجوا دیا

0
89

اسلام آباد، 6 جون (اے پی پی) : ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر محمد جہانزیب خان کی زیر صدارت ہفتہ کو سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 36.18 ارب روپے لاگت کے 613  منصوبے منظور کیے گئے۔  اجلاس نے پاکستان ریلوے کی جانب سے پیش کیا گیا 7.2 ارب ڈالر کا ایم ایل  ون منصوبہ حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا، اس کے علاوہ 184 ارب روپے کی لاگت کے  مزید 4  منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیے گئے۔

اجلاس میں توانائی، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،ٹرانسپورٹ اور مواصلات اورآبی وسائل سے متعلق منصوبے پیش کیے گئے۔سی ڈی ڈبلو پی نے 4.2 ارب ڈالر کی لاگت کا ایم ایل این منصوبہ حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا۔ اجلا س میں توانائی سے متعلق دو منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ بن قاسم انڈسٹریل پارک (بی کیو آئی پی) میں 132 کے وی گرڈ اسٹیشن کے قیام کے لیے 1493.10 ملین روپے کے منصوبے  کی منظوری دی گئی۔ اس منصوبے کا مقصد بن قاسم صنعتی پارک کے خصوصی اقتصادی زون (ایس ای زی) کو سستے نرخوں پر بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

  دوسرا پروجیکٹ پشاور، خیبر اور بنوں سرکل میں اے بی سی کیبل کے ساتھ ایل ٹی بیئر کنڈکٹر کی تبدیلی کے لیے  اجلاس نے  2806.4 ملین روپے کے منصوبے کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ سے متعلق دو منصوبے پیش کیے گئے، جس میں پہلا منصوبہ  “زیارت ٹاؤن، بلوچستان کی ترقی”کے لیے  1180.09 ملین روپے  کی منظوری دی گئی۔ اس منصوبے کے تحت موجودہ منظرنامے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقے  کی منصوبہ بندی اور  ترقی کے لئے طویل مدتی پالیسیوں پر توجہ دی جائے گی۔

تیسرا منصوبہ ، “پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے نیو کیمپس کی تعمیر برائے ایکسلینس فار ریسرچ اینڈ پوسٹ گریجویٹ ٹیچنگ سیکٹر H-11/2 اسلام آباد” کو ایک بہترین مرکز کے طور پر کام کرنے کے لیے 4545.488 ملین روپے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق دو منصوبے پیش کیے گئے۔ پہلا منصوبہ “یونیورسٹی آف تربت فیز ٹو کے لیے1456.14 ملین روپے کی لاگت  اور دوسرا منصوبہ  “صوابی نیو کیمپس سائٹ یونیورسٹی میں نئی سہولیات کی فراہمی کے لیے 1386.462 ملین روپے کی لاگت مختص کی گئی۔ اجلاس میں دونوں منصوبوں کو منظور کر لیا گیا۔

 اجلاس میں ٹرانسپورٹ اینڈ مواصلات سے متعلق 4 منصوبے ایکنک کو بھجوا ئے گئے۔ پہلا منصوبہ  “آئی جے پی روڈ سے خیابانِ اقبال اسلام آباد تک دسویں ایونیو پر انٹرچینج اور انڈر پاسز سمیت 10 ویں ایونیو کی تعمیرکے لیے  11078 ملین روپے،  دوسرا منصوبہ ایم۔ 8 منصوبے کے  پیکچ ون کے تحت خوشاب سے اواران تک 146 کلو میٹر سڑک کی تعمیر کے لیے 26354.293 ملین روپے  اور تیسرا منصوبہ  “پشاور طورخم موٹر وے پروجیکٹ کی تعمیر اور خیبر پاس اقتصادی راہداری منصوبے کے حصے کے طور پر N-5 اور N-55 کے ساتھ لنک روڈ کو جوڑنے والی موٹر وے کی تعمیرکے لیے 76551 ملین روپے  اور چوتھے منصوبے چکدرہ سے فتح پور مرحلہ III تک سوات موٹر وے کی تعمیر کی فزیبلٹی اسٹڈی اور تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن کی لاگت کے لیے 70094.729 ملین روپے مختص کیے گئے۔

سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں وزارت ریلوے کے پانچ منصوبوں کی منظوری دی گئی جس میں پہلا منصوبہ کراچی سرکلر ریلوے فیز 11 کی بحالی کے لیے 8705.598 ملین روپے کی لاگت، دوسرا منصوبہ دادو – حبیب کوٹ سیکشن سکھر ڈویڑن مرحلہ -4 پر رحمانی نگر اور بکرانی روڈ کے درمیان پٹری کی بحالی   کے لیے 1987.478 ملین روپے، تیسرا منصوبہ کنڈیاں اٹک سٹی سیکشن پشاور ڈویڑن فیز 1۔1 پر واقع برولی اور سوہن پل کے درمیان ٹریک کی بحالی کے لیے 1964.937 ملین روپے، چوتھا منصوبہ ڈیزل الیکٹرک ریل انجنز کی رکمشننگ کے لیے  1261 ملین روپے اور پانچویں منصوبہ سما سٹا اور بہاولنگر کے مابین  پٹری کی بحالی کے لیے 3183.164 ملین روپے کی لاگت مختص کی گئی۔ اجلاس میں آبی وسائل سے متعلق دو منصوبے پیش کیے گئے۔ جس میں پہلا منصوبہ “تربیلا ڈیم پر انڈس ریور سسٹم سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہروں تک پانی کی تعمیر اور اراضی کے حصول  کے لئے 3154.671 ملین روپے  اور دوسرا منصوبہ  “ضلع خضدار میں چھوٹے اسٹوریج ڈیموں کی تعمیرکے لیے  3056.075 ملین روپے  کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں سیکرٹری پلاننگ ظفر حسن، وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔

 وی این ایس ، اسلام آباد