بین الپارلیمانی یونین عالمی پارلیمانی تعاون اور اقوام عالم کے مابین ڈائیلاگ کی حوصلہ افزائی کررہا ہے :چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی

0
288

اسلام آباد، 23 اگست (اے پی پی):پاکستان کے ادارہ برائے پارلیمانی خدمات میں بین الپارلیمانی یونین کے130 سال مکمل ہونے پر جاری ہونے والی رپورٹ کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ بین الپارلیمانی یونین عالمی پارلیمانی تعاون اور اقوام عالم کے مابین ڈائیلاگ کی حوصلہ افزائی کررہا ہے اور آئی پی یو کے جمہوریت کے فروغ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات لائق تحسین ہیں۔ بین الپارلیمانی یونین کے 130 سال مکمل ہونے پر جاری ہونے والی رپورٹ بہت بڑی کامیابی ہے۔

 چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بین الپارلیمانی یونین کا سفر کثیر الجہتی پارلیمانی تنظیم کے طور پر شروع ہوا جو اب عالمی پارلیمانوں کی ایک بہت بڑی تنظیم بن چکا ہے۔ انہوں  نے کہا ہے کہ بین الپارلیمانی یونین ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔اس فورم کی بدولت جمہوری اقدار کو فروغ دینے، پارلیمانی روایات کی سربلندی اور ادارہ جاتی معاونت میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔پاکستان کی پارلیمنٹ آئی پی یو کو انتہائی اہم قرار دیتی ہے۔

 چیئرمین سینیٹ نے بین الپارلیمانی یونین کی صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ تاریخ کے انتہائی اہم موڑ پر ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر اقوام کو کرونا وبا کے باعث مشکلات کا سامنا ہے اس وبا نے عالمی معیشتوں اور زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں بین الپارلیمانی یونین کا اس ضمن میں کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم مساوات کا خاتمہ آئی پی یو کے ایجنڈے میں شامل ہے اورعدم مساوات پر قابو پانے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ترقی اور امن کا گہرا رشتہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہمیں مستقل طور پر یاد لاتی ہیں کہ ہمیں امن، سلامتی اور انسانیت کی فلاح کیلئے کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے  کہا کہ کرونا وبا کے باعث پارلیمانی رابطہ کاری کی راہ میں بھی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ ان تمام مشکلات کے باوجود آئی پی یو کی صدر کا دورہ اس اہم پلیٹ فارم کے مشن اور ویڑن کے ساتھ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ ادارہ جاتی تعاون کے فروغ کیلئے سینیٹ آف پاکستان نے پارلیمانی سفارتکاری کو انتہائی اہمیت دی ہے۔

اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے آئی پی یو کی صدر کو آئی پی یو کے 130 سال مکمل ہونے پر مبارکبا د پیش کی اورآئی پی یو کی 130 سال کارکردگی کی رپورٹ کتابی شکل میں گبریلا کویس بیرن کو پیش کی۔کتاب میں امن، جمہوریت، انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے حاصل کی گئی کامیابیوں کا خصوصی ذکر کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اختیار کیے گئے بہتر پارلیمانی طریقہ کار کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

 صدر آئی پی یو گبریلا کویس بیرن نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان عوام کی خواہشات کی مظہر ہے۔پارلیمان بین الاقوامی معاہدوں کو قومی حقائق کی روشنی میں عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھاتی ہے اور پارلیمان کا کام انسانی حقوق اور جمہوریت کو تحفظ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت مشکل دور سے گز ر رہی ہے۔ کرونا وبا نے دنیا بھر کیلئے صحت، معیشت و دیگر مسائل پیدا کیے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ مسائل کسی پاسپورٹ پر سفر نہیں کرتے اور نہ ہی کرونا وبا نے ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل ہونے کیلئے کسی سے اجازت طلب کی ہے۔وبا پر قابو پانے کیلئے حکومتوں اور پارلیمانوں کو مل کر حکمت عملی بنانا ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ کثیر الجہتی تعاون مسائل کے حل کا واحد راستہ اور پائیدار ترقی کیلئے انتہائی لازمی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، صنفی عدم مساوات،انسانی حقوق اور دیگر مسائل آج بھی توجہ طلب ہیں۔

صدر آئی پی یو نے کہا کہ دنیا بھر کو یکساں مسائل درپیش ہیں ان پر قابو پانے کیلئے مل کر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

 ایگزیکٹو ڈائریکٹر پپس محمد انوار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی یو بین الا ادارہ جاتی تعاون کو اہم سمجھتا ہے اور پپس بھی ادارہ جاتی معاونت کو فروغ دینے کیلئے کوشاں ہے۔آئی پی یو دنیا کے پارلیمانوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔پپس ادارہ جاتی تعاون کیلئے کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے وفد کو پپس کے اغراض و مقاصد اور جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ 2011 میں ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت قائم ہوا تھا۔جہاں پارلیمنٹرین کو قانون سازی سمیت دیگر اہم امور پر معاونت و تربیت دی جاتی ہے۔

قبل ازیں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے آئی پی یو کی صدر کا پپس پہنچنے پر استقبال کیا۔اس موقع پر سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر مرزا محمد آفریدی، رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

اے پی پی /ڈیسک/حامد