ملتان، 28 اکتوبر )اے پی پی ): جرمن سفیر برن ہرڈسچالجک نے کہا ہے کہ پاکستان میں زراعت کی فروغ کیلئے جرمن ایگریکلچر فارم کے منصوبے پر دوبارہ کام کرنے کی ضرورت ہے ،ٹیکسٹائل کے شعبہ میں تعاون ریسرچ پر کام کئے بغیر ممکن نہیں ہے، جرمنی پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کرزراعت اور دیگرشعبوں میں تعاون کوفروغ دے گا۔
ان خیالات کااظہارجرمن سفیر برن ہرڈسچالجک نے ایوان تجارت و صنعت میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا ٹیکسٹائل اور زراعت پر کام کے لئے پاکستانی سائنسدانوں کو آگے آنا ہوگاتاکہ دونوں شعبوں کوفروغ دیکرروزگارکے مواقعوں سے وسیع پیمانے پرفائدہ اٹھایاجاسکتاہے، ہیلتھ سیکٹر میں کام کے لئے ہم فوری طور پر تیارہیں۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی پاکستان میں توانائی کے شعبے میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔پاکستان میں جرمن زراعت سنٹر کے قیام کے حق میں ہوں،دونوں ممالک کی تجارت کے فروغ میں جرمن پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کا کردار بہت اہم ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ جرمنی اور پاکستان جی پی سی سی آئی (جرمن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) قائم کررہے ہیں جس کے ہیڈ کوارٹرز کراچی اور برانچیں پنجاب اور اسلام آباد میں ہوں گی، آئندہ سال تک مشترکہ چیمبر کا قیام عمل میں لایا جائے گا،ہم جرمنی کی حکومت کے تعاون سے 70 ملین یورو سے تعلیم کے شعبے میں کام کر رہے ہیں کاروباری افراد کے لئے ویزا پالیسی پرکام کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر ایوان خواجہ صلاح الدین نے خطاب کرتے ہوئے خطہ کی مصنوعات کو اجاگر کیا اور جرمنی پاکستان کے مابین تجارتی حجم بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جرمنی پاکستان کے مابین کورونا کے دوران تجارت متاثر ہوئی ہے جسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویزا پالیسی بارے بھی جرمن سفارت خانہ تاجروں صنعتکاروں سے تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان صنعت وتجارت جنوبی پنجاب کا ایک پریمیئر چیمبر ہے اور تاریخی طور پر پاکستان کے سب سے قدیم چیمبر میں سے ایک ہے جو آزادی سے قبل ہی قائم کیا گیا تھا،جو خطے کی معاشی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس علاقے کی کاروباری برادری کے مفادات کی نگہداشت کیساتھ ساتھ باہمی ترقی اور خوشحالی کے لیے بزنس کمیونٹی اورکسانوں کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا جنوبی پنجاب ملک میں آم کا 72 فیصد پیدا کرتا ہے اور اس کی وجہ سے ہر سال جون سے اکتوبر تک ایک ایکسپورٹ ونڈو چلتی ہے۔ پاکستان جرمنی کو آم اور سنتریکا سب سے بڑا برآمد کنندگان بن سکتے ہیں اور دنیا کو سب سے بہترین آم اور سنترے کا ذائقہ فراہم کرسکتے ہیں۔ملتان چیمبربزنس کمیونٹی کومختلف تربیتی پروگرام اور سیمینارز سے آگاہی فراہم کرنیمیں اپناکردارکررہاہے۔
انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں لوگوں کو بزنس مینجمنٹ کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے شعبوں کی آگاہی کے لئے آگاہی سیشنز اور نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں۔ ایوان صنعت وتجارت چھوٹے اور درمیانے درجے کے انٹرپرائز سیکٹر کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو کسی بھی ملک میں معاشی نمو کا انجن سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جرمن سفارت خانے سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تجارتی تبادلہ کرنے کے لئے اپنے ماہرین کو بھیج کر کبھی کبھی اس ٹرین میں شریک ہوں۔ہم جرمن سفیرسے ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کی درخواست کرتے ہیں جہاں دونوں ممالک کی طرف سے کاروباری وفود شامل ہوں اور دونوں ممالک کے تاجرسال میں ایک بار ایک دوسرے سے مل سکیں ۔











