پشاور، 29اکتوبر(اے پی پی): صوبائی وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی اکبر ایوب نے ہدایت جاری کی ہے کہ تمام غیر قانونی بس اڈوں کا خاتمہ کیا جائے اور جن ایگریمنٹس کی مدت پوری ہو چکی ہے ان کا دوبارہ سے نئے پراپرٹی مینجمنٹ سسٹم کے تحت ای آکشن کیا جائے ۔ ہر ٹی ایم اے کا تمام جائیدادوں کیلئے اپنا ایک ڈیجیٹل ڈائریکٹری ہونی چاہیے جس سے تمام اراضیوں کے بارے میں معلومات چند لمحوں میں حاصل کئے جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے ضلع مردان، صوابی اور چارسدہ کے ترقیاتی کاموں اور صفائی کے حوالے سے منعقد اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح صفائی اور عوام کو بہتر میونسپل سروسز فراہم کرنا ہے جس کے لیے ہم سب نے مل کر کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہروں سے کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کو ختم کرنا اور میونسپل سروسز جن میں سٹریٹ لائٹس لگانا، پودے لگاکر سبزہ زار کو بڑھانا، بازاروں میں، بس اڈوں اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں مرد اور عورتوں کے لیے الگ الگ واش رومز بنانا اور پینے کیلئے صاف پانی کا بندوبست کروانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے ۔
اکبر ایوب خان نے کہا کہ اب کے بعد تمام ٹی ایم ایز دفاتر میں ہر گاڑی کیلئے اپنا فیول کارڈ بنوایا جائے تاکہ پی او ایل کے استعمال میں شفافیت لائی جاسکے۔انھوں نے کہا کہ کوئی ہوائی کام نہیں ہونگے تمام کام میرٹ پر فزیکل بنیادوں پر ہونے چاہیے، ہم عوامی نمائندے ہیں اور عوام کو بہترین نتائج فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔
صوبائی وزیر بلدیات نے ہدایت جاری کی کہ سینٹیشن کاموں کیلئے مشینری کی خریداری کی جائے جبکہ ٹی ایم اے کے تمام ٹھیکوں کی آشکن کرنے اور ان سے محصول پیداوار بہتر بنانے کیلئے تمام افسران کو انتھک محنت کرنی ہوگی تاکہ تمام زیر التواء واجبات پر قابو پایا جاسکے۔انھوں نے ہدایت کی کہ کورٹ کے کیسسز کو ختم کرنے اور ان سے ادارے کیلئے بہتر نتائج لینے کیلئے قابل اور تجربہ کار وکلاء کی خدمات لی جائے ۔
تمام صوبائی ممبران نے اکبر ایوب خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بار کسی صوبائی وزیر نے اپنے علاقے کے آفسران کے ساتھ ہمیں بیٹھنے کا موقع دیااور اس کا سارا اعزاز صوبائی وزیر بلدیات کو جاتا ہے۔ انھوں نے صوبائی وزیر کی کاوشوں اور محنت کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اسطرح کے اجلاسوں کے منعقد کرانے سے عوام کے کافی مسائل ان کے دہلیز پر حل ہونگے ۔
اس موقع پر ان اضلاع کے ممبران صوبائی اسمبلی اور تحصیل میونسپل آفسران بھی موجود تھے ۔











