مسلم لیگ (ن) نے لوٹ مار اور کرپشن کے سوا اس ملک میں کچھ نہیں کیا؛ سینیٹر شبلی فراز

172

اسلام آباد،4اکتوبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عوام کے سامنے ایسا بیانیہ پیش کر رہی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، مسلم لیگ (ن) نے لوٹ مار اور کرپشن کے سوا اس ملک میں کچھ نہیں کیا، وہ بارودی سرنگیں بچھا کر گئی تھی، گزشتہ حکومت نے عوام کے ساتھ دشمنی کے علاوہ کچھ نہیں کیا،  نواز شریف کی حکومت نے بجلی کے شعبے میں مہنگے کنٹریکٹ کئے، بجلی مہنگی ہونے کی بنیادی وجہ نواز شریف حکومت کے معاہدے ہیں، حکومت کی نیت ٹھیک تھی تو ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج کل ہر طرف پریس کانفرنس ہو رہی ہیں، مسلم لیگ (ن) کے ترجمان بڑے وثوق سے عوام کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں، عوام کے سامنے ایک ایسا بیانیہ پیش کیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، عوام کے مفاد کے ٹھیکدار اپنی حکومتیں چلا چکے ہیں۔

 انہوں نے عوام دشمنی کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا،اپوزیشن خصوصا مسلم لیگ (ن) پاکستان میں صرف اقتدار کی خاطر آتی ہیں، مسلم لیگ (ن) نے لوٹ مار اور کرپشن کے سوا اس ملک میں کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے اقتدار چھوڑا آج وہ مہنگائی کی بات کرتے ہیں، یہ کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے جب انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت آئی مسلم لیگ (ن) ہمارے لئے لیے بارودی سرنگیں بچھا کے گئی تھی، اس وقت کرنٹ اکائونٹ خسارہ، درآمد برآمد کا فرق 30 کھرب جس کے لئے سود کی ادائیگی کی مد میں 2.9 کھرب روپے رکھے گئے، ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر کم رکھا گیا، گزشتہ حکومت نے شدید مالی مسائل وراثت میں چھوڑے، مسلم لیگ (ن) کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انڈسٹری کو شدید نقصان ہوا۔

 سینیٹر شبلی   فراز نے کہا کہ (ن) لیگ 5 سال میں اپنی برآمدات کو بڑھا نہ سکیں، شاہد خاقان عباسی نے اسحاق ڈار کو اپنے طیارے میں فرار کروایا، انہوں نے عوام کے ساتھ دشمنی کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اسحاق ڈار نے 23 ارب ڈالر سٹیٹ بنک میں رکھ کر ڈالر کو مصنوعی طور پرر روکے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملی تو بیس ارب ڈالر کا خسارہ ساتھ ملا، تحریک انصاف کی حکومت 20 ارب ڈالر کو مثبت پر لے آئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب ہم حکومت میں آئے تو ہمارے لئے بڑے چیلنجز تھے، بیرونی قرضوں کو بھی ادا کرنا تھا، پام آئل اور دالوں کو درآمد کرتے تھے، دالیں بھی اتنی سستی نہیں ہیں، یہ بھی 800 ملین ڈالر کی درآمد کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 20 ارب ڈالر کا تھا، ہم نے مشکل سے معاشی ٹیم کے ساتھ کام کر کے 20 ارب ڈالر جو ہم نے دینے تھے منفی سے مثبت پر لائے، اوورسیز پاکستانیز نے ترسیلات زر میں اضافہ کیا، ایکسپورٹس بھی بڑھ رہی ہیں، ٹیکسز بھی ٹارگٹ سے زیادہ اکٹھے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے، عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتیں گرتی ہیں اور بڑھتی ہیں، بجلی اور گیس کی جو قیمتیں بڑھ رہی ہیں یہ مہنگی اسی وجہ سے ہو رہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی پچھلی حکومت نے مہنگے کنٹریکٹ کئے تھے، ان لوگوں نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ جو معاہدے کئے ان میں قوم کو گروی رکھا گیا۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس کے حوالے سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی کا مہنگا معاہدہ کر کے اپنی ایئر لائن چلائی، ایل این جی کا معاہدہ کر کے ملک کو مصیبت میں ڈال دیا، مہنگے ترین ایل این جی خرید کر ہم ان معاہدوں سے نہیں نکل سکتے، ملک کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے، وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے میٹنگ بھی بلائی تھی کہ ملک میں گیس کو کس طرح بحال رکھا جائے لیکن انہوں نے جو معاہدے کئے ان میں ان کو کمیشن ملتے تھے، آج کل یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بجلی اور گیس مہنگی ہو گئی ہے لیکن یہ ان لوگوں کے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا وائرس کی مشکل صورتحال سے نمٹنے میں مدد ملی کیونکہ وزیراعظم وباءپر قابو پانے کے حوالے سے نیک نیتی سے اقدامات کر رہے تھے، ترقی یافتہ ممالک کے نتیجہ میں ہمیں بیماری کے پھیلائو  پر قابو پانے میں زیادہ کامیابی حاصل ہوئی کیونکہ ہم نے منظم طریقے سے اقدامات کئے جن کے تحت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔