اسلام آباد ، 29 جون ( اے پی پی ): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی تنظیمِ نو اور زرعی شعبے میں اصلاحات سے متعلق اہم جائزہ اجلاس ہوا۔
وزیراعظم نے صوبوں کی مشاورت سے جامع قومی زرعی پالیسی جلد از جلد مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ زرعی شعبے میں ایپکس فورم قائم کرنے کا حکم دیا جو ایگریکلچر انوویشن اور گروتھ پلان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ماہانہ اجلاس منعقد کرے گا۔
وزیراعظم نے زرخیزی-ای
(Zarkhez-e) زرعی قرضے پروگرام سے متعلق ملک گیر آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی تاکہ کسانوں کو آسان زرعی قرضوں تک رسائی مزید بہتر بنایا جا سکے۔ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کو صحیح معنوں میں زرعی تحقیق کا مرکز بنانے پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا زرعی شعبہ پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ بہتر بیج، جدید زرعی ٹیکنالوجی، پانی اور کھاد کی بروقت اور مناسب فراہمی سے فی ایکڑ پیداوار بڑھے گی۔ زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن، بہتر ویئر ہاؤسنگ اور جدید ذخیرہ سازی کے نظام پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو زرعی شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) نے پائلٹ بنیادوں پر ملٹی گرین آٹے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایپ تیار کی جا رہی ہے جو کسانوں کو کیڑوں اور فصلوں میں بیماریوں کے مؤثر تدارک میں مدد دے گی۔ نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹڈ کسانوں کی آسان قرضوں تک رسائی کے لیے فنڈز مہیا کرے گی۔
نیشنل سیڈ پالیسی اور نیشنل ایگریکلچر بائیو ٹیکنالوجی پالیسی حال ہی میں منظور ہو چکی ہیں۔ پاکستان نیشنل اولیو (Olive) ویلیو چین پالیسی پر مشاورت مکمل ہو چکی اور جلد منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ گندم سے متعلق قومی پالیسی، اور لائیو اسٹاک سے متعلق کئی پالیسیوں پر مشاورت جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمی خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔











