اسلام آباد,اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کنزرویٹو فرینڈز آف پاکستان،پاکستان، برطانیہ، کنزرویٹو پارٹی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے درمیان وسیع، مضبوط اور گہرے تعلقات کے قیام کے لئے کوشاں ہے ۔بھارت نے اپنی انتہا پسندی اور یک طرفہ، غیر آئینی اقدامات کے سبب پورے خطے کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔یہ باتیں انہوں نے منگل کو کنزرویٹو فرینڈز آف پاکستان کے ورچوئل اجلاس کے سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔وزیر خارجہ نے کنزرویٹو فرینڈز آف پاکستان کے ورچوئل اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ کنزرویٹو فرینڈز آف پاکستان، لارڈ ضمیر چوہدری کی قیادت میں پاکستان، برطانیہ، کنزرویٹو پارٹی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے درمیان وسیع، مضبوط اور گہرے تعلقات کے قیام کے لئے کوشاں ہیں۔ برطانیہ میں لاکھوں پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی موجودگی، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے استحکام کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کیلئے کورونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنا انتہائی مشکل امر ہے ۔پاکستان، محدود معاشی وسائل کے باوجود، سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو اپناتے ہوئے، کورونا وبا کے پھیلاؤ کو کافی حد کم کرنے میں کامیاب ہوا۔پاکستان نے ذمہ دارانہ معاشی پالیسیوں کو اپناتے ہوئے اپنی معیشت کو بہتری کی جانب گامزن کیا ۔ان پالیسیوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حجم میں اضافہ، برآمدات کا فروغ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بکثرت استعمال اور سیاحت کا فروغ شامل ہیں۔وزیر خارجہ نے شرکا اجلاس کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ بھارت نے اپنی انتہا پسندی اور یک طرفہ، غیر آئینی اقدامات کے سبب پورے خطے کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے ۔بھارت، بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کے درپے ہے۔پاکستان کا مطالبہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فی الفور روکنے اور اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے ۔اجلاس میں برطانوی ،حکومتی وزراء، ممبران برطانوی پارلیمنٹ اور پاکستانی کمیونٹی کی بہت سی نامور شخصیات نے شرکت کی۔











