آئی جی پی ثناء اللہ عباسی کی اعلیٰ پولیس حکام کو دہشت گردوں  سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار رہنے کی ہدایت

221

پشاور،16 نومبر(اے پی پی): انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے اعلیٰ پولیس حکام کو صوبے میں دہشت گردوں کےخلاف انٹیلی جنس اطلاعات پر نتیجہ خیز کاروائیاں کرنے اور منشیات فروشوں بالخصوص آئس کے مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف فیصلہ کن اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس پشاور سے صوبہ بھر کے ریجنل پولیس افسروں کو آن لائن ویڈیو لنک کانفرنس کے دوران جاری کیں۔ ریجنل پولیس افسروں نے اس مقصد کے لیے اپنے اپنے ریجن میں اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں آئی جی پی کو اعداد و شمار کے ساتھ بریف کیا۔ آئی جی پی نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ دہشت گردوں اور منشیات فروشوں کے مزموم عزائم اور حربوں سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار رہیں اور ان کی جانب سے کسی بھی کوشش کو بروقت ناکام بنانے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائیں۔ آئی جی پی کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری سے ان کی کمر ٹوٹ گئی ہے اوردہشت گردی کو شکست ہو چکی ہے تاہم دہشت گردی کی کسی بھی کوشش کی صورت میں پولیس کی جوابی کاروائی تندو تیز اور موثر ہو۔ انہوںنے مزید کہا کہ ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی روابط رکھ کر انٹیلی جنس اطلاعات پر مبنی آپریشنز کر کے ان کے کسی بھی مزموم عزائم کو بروقت خاک میں ملائیں۔ منشیات کی لعنت کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ نوجوان نسل ہمارے روشن مستقبل کے امین ہیں جن کی بہترین تربیت اور حقوق کی پاسداری کے لیے پولیس کو متحرک اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ آئی جی پی نے کہا کہ نوجوان نسل بالخصوص بچوں کو منشیات فروشوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا اور پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ آئس نشہ کرنے اور بیچنے والوں کے خلاف نتیجہ خیز کاروائیاں کریں اور اس گھناﺅنے دھندے میں ملوث افراد کی گرفتاری عمل میں لائیں۔

قبل ازیں آئی جی پی ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اور اجلاس میں بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے ایک ارب روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔اجلاس میں  ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈ کوارٹرز، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز، ڈی آئی جی ٹریننگ، ڈی آئی جی ٹریفک ، ڈی آئی جی فنانس اور اے آئی جی ٹیلی کمیونیکشن نے شرکت کی۔

ڈی آئی جی فنانس نے آئی جی پی کو ضم شدہ اضلاع میں پولیس فورس کے اہلکاروں کے لیے ایک ارب کی رقم سے خریدے جانے والے آلات، اسلحہ اور دیگر ضروریات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ آئی جی پی کو بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کی پولیس کو جدید آلات اور مواصلاتی نظام سے لیس کرنے کے لیے71 گاڑیوں کی باڈی فیبریکیشن اور بلٹ پروفنگ، 17موبائل جیمرز، 1355 وائرلیس سیٹ بمعہ ضروری آلات، 4192 میٹر یونیفارم، 39 واک تھرو گیٹس، کمپیوٹر اور فوٹو سٹیٹ مشینوںوغیرہ کی خرید و فروخت کے لیے متعلقہ فرموں/کمپنیوں کو آرڈر جاری کردیئے گئے ہیں۔

آئی جی پی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ فنڈ کے ایک ایک پیسے کے صحیح استعمال اور مصرف کو یقینی بنائیں۔ اور پولیس کو جدید آلات اور اسلحہ سے لیس کرکے اس کی استعدادی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کریں۔ آئی جی پی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے مزید رقم بھی بہت جلد جاری کردی جائے گی۔ آئی جی پی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کی پولیس کی تربیت اور جدید سازوسامان سے لیس کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

بعد ازاں آئی جی پی خیبر پختونخوا ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز پشاور کا دورہ کیا جہاں ان کو صوبے میں امن وامان کی صورتحال اور دہشتگردی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔