بھارت میں  پاکستان سے جانیوالے ہندوؤں کے ساتھ انتہائی نارواسلوک کیا  جاتا ہے، بھارت سے واپس آنے ہندوؤں کی گفتگو

77

میرپورخاص،11 نومبر ( اے پی پی): بھارت سے واپس آنے والے میرپورخاص کے ہندوکچھی کولہی برادری کے افراد کا کانجھی کچھی کولہی گوٹھ میرپورخاص آمد پر شاندار استقبال کیا گیا۔

 اس گوٹھ کے 2خاندانون کے 15 لوگ جس میں بچے عورتیں اور مرد شامل ہیں جو مذہبی رسومات کی ادائیگی اور روز گار کے سلسلے میں 8 ماہ قبل پاکستان سے بھارت ہجرت کرگئے تھے۔

 ہندو خاندانوں کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمان اورسکھ ہی نہیں پاکستان سے جانیوالے ہندوؤں کے ساتھ بھی انتہائی نارواسلوک رکھا جاتا ہے، بھارت میں مذہب سے بڑھ کرسب سے بڑا جرم پاکستانی ہونا ہے۔ وہ بھارت میں مقیم پاکستانی ہندوؤں سے کہیں گے کہ وہ مزیدذلت گوارہ نہ کریں اور واپس اپنے ملک لوٹ آئیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام ہندوئوں کو کہنا چاہتے ہیں کہ جو بھی انہیں یہ سبزباغ دکھاتا ہے کہ بھارت میں زمین ملے گی، شہریت ملے گی یہ سب جھوٹ ہے، جو آٹھ دس سال سے بھارت میں گئے تھے وہ آج بھی جھونپڑیوں میں زندگی گزاررہے ہیں۔ ضلع انتظامیہ میرپورخاص ان کی واپسی کے بعد تعاون کررہی ہے اور بھارت سے واپسی آنے والے ہرفرد کو ایک ماہ کا راشن دیا گیا ہے۔

 اس موقع پر اے ڈی سی ٹو پریم چند، اسسٹنٹ کمشنرحسین بخش مری محمد خان کھٹی، سماجی و اقلیتی رہنماء سرون کمار بھیل، صحافیوں اوردیگر لوگوں نے واپس آنے والے ہندوکچھی کولہی کے لوگوں کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ واضح رہے کہ بھارتی صوبے راجستھان میں گیارہ ہندو پاکستانی مہاجرین کی موت ابھی تک ایک معمہ ہے۔