ملتان ،21دسمبر (اے پی پی): وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ ساتھ دنیا بھرکوبتادیاہے کہ اگربھارت نے سرجیکل سٹرائیک کی کوشش کی توپاکستان کی طرف سے ان کی توقع سے بھی زیادہ سخت ، بھرپوراورفوری جواب دیاجائے گا۔
پیر کو یہاں حضرت شاہ رکن عالم سہروردیؒ کے 707ویں عرس کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمیں بھارت کے سرجیکل سٹرائیک اورپاکستان کوکمزورکرنے کی بھارتی کوششوں کے بارے ان کی سوچ سے بھی زیادہ معلومات ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسندملک ہے ،ہم بے جا خون خرابہ اورجنگ نہیں چاہتے لیکن اگرایسا ہواتواس کاذمہ دار بھارت ہوگا جبکہ اس سے خطہ کاامن بھی خراب ہوگا۔
شاہ محمودقریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مبصرین کی گاڑی پرلائن آف کنٹرول پرانڈیانے فائرنگ کی اقوام متحدہ کواس کافوری نوٹس لیناچاہیے، اس کے بارے میں وزیراعظم پاکستان بھی واضح پیغام دے چکے ہیں، بھارت کوواضح پیغام ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے بازآجائے ۔
انہوں نے کہاکہ میرے حالیہ یواے ای کے دورہ کے موقع پردبئی کے حکمرانوں اور یو اے ای کے وزیرخارجہ سے طویل نشست ہوئی جس میں ویزہ اوردیگرمعاملات پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا کوئی دوسرا نعم البدل نہیں ،میں یہ ابہام دورکر دینا چاہتا ہوں کہ ویزہ بندش عارضی ہے جلدہی یہ بندش ختم ہوجائے گی۔یواے ای والے ہوں یاسعودی عرب وہ ہندوستان کوہمارامتبادل نہیں سمجھتے ،ہندوستان اس کوشش میں لگاہواہے تاہم اسے غلط فہمی سے نکل آناچاہیے اس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی ۔یواے ای حکام کودورہ پاکستان کی دعوت دی ہے جلد ہی وہ پاکستان کادورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے دورہ کے موقع پراسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں ان کانقطہ نظرسنااورسمجھااوراسرائیل کے بارے میں پاکستانی موقف کے بارے میں بھی بتایاہے کہ جب تک مسئلہ فلسطین کاکوئی پائیدارحل نہیں نکلتاہم اسرائیکل سے تعلقات نہیں رکھ سکتے ۔انہوں نے بھی ہمارے موقف کوسمجھا ہے میں یہ واضح کردوں کہ اسرائیل کوتسلیم کرنے کے لئے پاکستان پرکوئی دباؤنہیں ہے ہماری اپنی پالیسی ہے، ہمارے اپنے مفادات ہیں ہم نے اپنی پالیسی اورمفادات کو سامنے رکھ کر ہی فیصلے کرتے ہیں ۔
وزیرخارجہ نے کہاکہ ہندوستان نے ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ،14نومبر کو ہم نے دنیا کے سامنے بھارت کے پاکستان کے خلاف کئے گئے اقدامات کے ثبوت کے ساتھ ڈوزئیررکھ دیئے جبکہ یورپی یونین نے بھی بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف جاری مختلف کوششوں جس میں ڈس انفارمیشن کے لئے جعلی این جی اوزاورجعلی سوشل میڈیا گروپس کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششوں کاتفصیلی ذکرہے دنیا کے سامنے لے آئے ہیں ،اب بھارت کاچہرہ بے نقاب ہوچکاہے ۔
ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہاکہ کورونا وائرس کی وبا کی دنیا میں صورت حال گھمبیرہوتی جارہی ہیے۔برطانیہ ،جرمنی اوردیگرممالک نے اپنے ایس اوپیزتبدیل کرنے شروع کردیئے ہیں، کورونا وائرس پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتاجارہاہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباکی صورت حال کے تناظرمیں پی ڈی ایم کوذاتی مفادات سے نکل کراب قومی مفادات کوسامنے رکھ کرفیصلہ کرناچاہیے ۔لاہور کے جلسہ نے ثابت کردیاہے کہ عوام پی ڈی ایم کے عمل کاحصہ نہیں بنناچاہیے وہاں پارٹیوں کے ورکرزہی موجودتھے ۔پاکستان پیپلزپارٹی والے استعفے نہیں دیناچاہتے اسی طرح پاکستان مسلم لیک (ن)میں بھی دودھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں انتشار ہے مجھے لگتاہے یہ استعفے نہیں دیں گے اگرپی ڈی ایم استعفوں کے معاملے پرسنجیدہ ہے توپھر 31دسمبرتک قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے سپیکرزکواستعفے جمع کرادیں۔











