سکھر، 08 دسمبر( اے پی پی ) سندھ ہائی کورٹ سکھربنچ نے بڑی عمارتوں کی تعمیر پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سکھر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالطیف جروار کو عدالتی تحویل میں لے لیا ہے۔ 48گھنٹوں کے اندر تمام کمرشل عمارتیں گرانے کا حکم جاری کردیا گیا۔منگل کو سندھ ہائی کورٹ سکھربنچ میں محکمہ آبپاشی کی زمینوں ، محکمہ جنگلات کی ایراضی پر قبضوں اور بیراج کالونی سکھر میں بڑی عمارتوں کی تعمیر کے معاملہ کی سماعت ہوئی۔ابتدائی سماعت کے دوران سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سکھر کے افسران کی عدم پیشی پر عدالت نے کارروائی ایک گھنٹے کے لئے ملتوی کردی۔
سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سکھر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالطیف جروار عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کے معزز جج جسٹس آفتاب احمد گورڑو نے استفسارکیا کہ بتایا جائے یہ بڑی عمارتیں کس طرح تعمیر ہوئیں۔عدالت کے حکم پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالطیف جروار کوعدالتی تحویل میں لے لیا گیا۔سماعت کے دوران محکمہ ایریگیشن، پولیس، روینیو کے افسران پیش ہوئے۔محکمہ جنگلات کے افسران نے کارروائی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سماعت کے بعد مزید 59 سو ایکڑ اراضی پر قبضہ خالی کرالیا گیا ہے۔کچھ مقامات پر پولیس تعاون نہیں کررہی۔
جسٹس آفتاب احمد گورڑو نے رمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران صرف پوسٹنگ چاہتے ہیں،وہ ایماداری دکھانا نہیں چاہتے۔سرکاری زمین خالی کرانے میں سستی برداشت نہیں کریں گے۔جو پولیس افسران تعاون نہیں کریں گے وہ پوسٹنگ اور نوکری سے فارغ ہوجائیں گے۔عدالت نے کہا کہ قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ محکمہ ایریگیشن کی زمین پر تجاویزات معاملہ پر عدالت نے حکم دیا کہ کمرشل عمارتیں 48گھنٹوں کے اندرگرائی جائیں اور اس حوالے سے کارروائی کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ لاڑکانہ سمیت دیگرشہروں غیرقانونی تجاوزات کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور رپورٹ پیش کی جائے۔عدالت مزید سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی۔











