اسلام آباد،14جنوری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہےکہ بھارت خود داعش کی پرورش کر رہا ہے اور بھارت میں داعش کے باقاعدہ ٹریننگ کیمپ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں،بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی اور عالمی سطح پر بھارت کے خلاف ملنے والے شواہد عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔
سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں داعش جیسے عناصر تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اُس پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہم کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔
کرونا وباء سے تحفظ کیلئے ویکسین پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر چہ ویکسین دنیا کیلئے ایک اچھی اور خوش آئند پیش رفت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی سرکار کے ہاتھوں اس سہولت سے بھی محروم رہیں گے اور ہمیں خود مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو یہ سہولت فراہم کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں زونبی کے نام سے ایک نشہ متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی خطرنا ک نشہ ہے جس سے بچے عجیب و غریب حرکا ت شروع کر دیتے ہیں اور اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ اس گنونے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی اشد ضرورت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔
کمیٹی کو ایف آئی اے حکام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور ذخیرہ اندوزی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے بتایا کہ کرونا وباء کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات ہر دور میں کسی نہ کسی مسئلے سے دو چار رہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ جہاں پٹرول کی کمی ہو وہاں اسے نہ صرف پورا کیا جائے بلکہ جو عناصر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہوں اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جبکہ ٹاپ کی 12کمپنیز جو اس میگا کرپشن میں شامل تھیں ان کو بلیک لسٹ کیا جائے گا اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا اور جن لوگوں نے باہر کے ممالک میں بیٹھ کر پیسہ لگاہا اور مصنوعی قلت پیدا کی تا کہ وہ اپنی جیبیں بھر سکیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔
کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔سینیٹر جاوید عباسی نے اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی بد امنی اور جرائم کی جانب کمیٹی کی توجہ مبز ول کراوئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام عوام کی حفاظت کرنا ہے جبکہ یہاں پولیس نے ایک نہتے طلب علم کو جان سے مار ڈالا اور اسکے والدین انصاف انتظار میں ہیں۔
کمیٹی کے چیئرمین نے اسلام آباد کی امن و امان کی صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا۔ سینیٹر میاں عتیق شیخ نے بھی کہا کہ اسامہ ستی قتل کیس کے حقائق چھپانے کی کوشش نہ کی جائے اور اس کی غیر جانبدارنہ انکوائری کرائی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے بعض عوامی ارداشتوں کا بھی جائزہ لیا اور اُس پر بھی مناسب کاروائی کی ہدایات دیں۔
کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی، میاں عتیق شیخ کے علاوہ وزارت داخلہ، وزارت پیٹرولیم و ایف آئی اے اور دیگر محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











