طالبان رجیم کی ناکام پالیسیوں سے افغانستان میں انسانی و معاشی بحران سنگین، لاکھوں افراد امداد کے منتظر

4

اسلام آباد،6 جون ( اے پی پی): افغانستان میں جاری معاشی بحران، غربت اور غذائی قلت نے شہریوں کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ طالبان رجیم کی سخت گیر اور ناکام پالیسیوں نے ملک کو مزید عالمی تنہائی کی جانب دھکیل دیا ہے۔

ناروے کی ریفیوجی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق افغانستان میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے اور ملک کی تقریباً نصف آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رجیم کے دور میں 400 سے زائد صحت کے مراکز بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث لاکھوں افراد بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔

‎رپورٹ کے مطابق افغانستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی صورتحال مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے، جبکہ خواتین پر عائد سخت پابندیوں نے معاشرے کے ایک بڑے حصے کو عملی طور پر سماجی و معاشی نظام سے باہر کر دیا ہے۔

‎ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور معاشی ڈھانچے، طالبان رجیم کی ناکامی اور نااہلی نے افغان عوام کو مکمل طور پر عالمی امداد پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

‎ماہرین کے مطابق افغانستان ایک ایسے نظام کے زیرِ اثر ہے جہاں سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سیکیورٹی بحران مسلسل گہرا ہو رہا ہے اور حالات روز بروز مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔