لاہور18جنوری(اے پی پی) :اپوزیشن کی آہوں اور سسکیوں کا تعلق براڈ شیٹ سے جڑا ہے۔ حکومت براڈشیٹ رپورٹ پبلک کر رہی ہے۔ جعلی راجکماری اور پرچی شہزادہ غور سے پڑھیں تو پتہ چل جائے گا کہ براڈشیٹ ظل سبحانی اور کرپٹ گٹھ جوڑ کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ 2000ء سے 2020ء تک کی سیاہ کاریوں اور کرپشن کا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعظم عمران خان نے انٹر منسٹیریل کمیٹی بنائی ہے جو اس عرصہ کے دوران پاکستان میں کرپشن اور لوٹ مار سے متعلق تمام حقائق کو پبلک کرے گی۔قوم کے اربوں لوٹ کر ظل سبحانی اور شاہی خاندان نے دو مرتبہ این آر اولیا ا ور پیپلز پارٹی کو سرے محل کے معاملے پر این آر اوملا۔ جوں جوں ان کی کرپشن کے شاہکار بے نقاب ہوتے ہیں یہ لوگ سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔جس چیئرمین الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن والے احتجاج کر رہے ہیں وہ ان انتخابات میں تھے ہی نہیں۔حکومت اور اپوزیشن کی باہمی مشاورت سے چیئرمین الیکشن کمیشن لگایا جاتا ہے ، جسے خود منتخب کیا اس کے خلاف احتجاج کرناکیا کھلا تضاد نہیں؟ کرپٹ امام کی امامت میں پی ڈی ایم کی ساری قیادت با جماعت عمران خان پر حملہ آور ہو کربار بار جمہوریت کے خلاف اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے جمہوریت اپنے اقتدار کا نام رکھا ہوا ہے۔یہ لوگ جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو اداروں کی بے توقیری کرتے ہیں۔ احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ہے حکومت کسے قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالے گی مگر جہاں قانون کی کریز سے کوئی باہر نکلے گا اس کو قانون کی جھپی ڈال کر حصار میں لیا جائیگا۔
ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے چیئرمین ریور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی راشد عزیز اور وائس چیئرمین لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایس ایم عمران کے ہمراہ 90شاہراہ قائد اعظم پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ریور راوی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک لاکھ 20 ہزار ایکڑ پرمشتمل ایک مکمل شہر ہے جو 30سال میں بنایاجائے گا۔اس شہر کوپلاننگ کے ماڈرن سٹینڈرز کے مطابق بنایاجائے گا۔ وزیراعظم پاکستان منصوبے کی مانیٹرنگ روزآنہ کی بنیاد پر خود کرتے ہیں۔ یہ ایسا شہر آباد ہونے جا رہاہے جس میں جو نوجوان کو لاکھوں کی تعداد میں روزگار کے مواقع میسر ہوں گے۔وزیراعلی کا مقصد دو نہیں ایک پاکستان ہے۔دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت سے جو مسائل پیدا ہوئے حکومت ان کا حل نکال رہی ہے۔شہباز شریف نے شوبازیوں میں عوام کا نقصان کیا اور بس تختیاں لگائیں۔یہ منصوبہ عوامی ترجیحات و مفادات کے مطابق بنایا جائیگا۔
چئیرمین روڈا راشد عزیز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے صنعتوں کو رواں دواں رکھنے کیلئے راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبے کے نوٹیفائیڈ ایریا میں پہلے سے واقع تمام صنعتی یونٹوں کو منصوبے سے خارج کرنے کا حکم دیاہے۔علاقے میں موجود تمام صنعتیں بدستور کام کرتی رہیں گی اور انہیں وہاں سے باہرمنتقل نہیں کیاجائے گا۔دریا کے راستے میں نہ آنے والی آبادیوں کو بھی ایکوائر نہیں کیا جائے گا۔دریائے راوی کے ساتھ واقع سیلابی علاقے میں موجود آبادیوں کو بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے پر شدید خطرات لاحق ہیں۔یہ منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیاجائے گا۔











