پشاور۔8جنوری (اے پی پی):صوبائی وزیر خزانہ خیبرپختونخوا تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ صوبائی ملازمین کا پینشن ترقیاتی بجٹ کے برابر ہوگیا ہے، پینشن کا بڑھ جانا غیر متوازن ہے، پندرہ سال قبل صوبائی بجٹ اسی ارب جبکہ پینشن ایک ارب روپے تھی، گذشتہ دس سالوں کے دوران پینشن ترقیاتی بجٹ کے برابر ہو گئی ہے، پنشن کا بجٹ ترقیاتی بجٹ کے برابر ہونے لگا ہے، ہم نے ریٹائرمنٹ کیلیے عمر کی حد 60سے 63سال کردی تھی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرمعاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلیم کامران بنگش بھی موجود تھے۔تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ یہ مسئلہ حل طلب ہے، پنشن کی رقم بتدریج بڑھ رہی ہے، اسٹیٹ بینک نے بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ پنشن کا مسئلہ حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پنشن سے متعلق اصلاحات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، پنشن میں اصلاحات سے آئندہ دس سال میں 140ارب بچ جاتے،اس سال پنشن کا بجٹ 86 ارب روپے ہے، پنشن اصلاحات کے باعث نئی آسامیوں کا مشتہر نہ ہونے کا تاثر غلط ہے، حکومت کے پاس رقم کی بچت ہوگی تو مزید نوکریاں پیدا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ حد تین سال بڑھنے سے اگلے دس سالوں میں 140ارب روپے فائدہ ہوگا، پینشن ریفارمز کے ریورس ہونے سے پچھلے آٹھ ماہ میں 13ارب روپے خرچ ہوئے، سپریم کورٹ کے 63سال ریٹائرمنٹ سے متعلق فیصلہ خوش آئند ہے، 63سالہ ریٹائرمنٹ فیصلہ سے نئے ملازمتوں اور موجودہ ملازمین کی ترقی متاثر نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تمام ملازمین کی پینشن محفوظ ہوگی، ملازمین نے کام کیا ہے پینشن انکا حق ہے۔











