پشاور، 26فروری(اے پی پی: ڈسٹرکٹ پولیس افیسر نوشہرہ، کیپٹن (ر) نجم الحسنین نے کہا ہے کہ موٹروے پر ہوئی ڈکیتی کیس کا معمہ حل کرلیا گیا ہے اور واقعہ میں ملوث ڈکیت گروہ کے 5 ارکان گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ جنکے قبضے سے لوٹی رقم اور اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افیسر نوشہرہ، کیپٹن (ر) نجم الحسنین نے ڈکیتی کیس میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے بارے آج یہاں نوشہرہ پولیس لائنز میں میڈیا کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر ٹوبیکو کمپنی مرادن میں بطور ڈرائیور کام کرنے والے نہار علی ساکن رستم کلے مردان نے 04-02-2021 کو رسالپور پولیس کو رپورٹ درج کرائی کہ وہ اپنے دو دوستوں کیساتھ کمپنی کی رقم لینے کیلئے چکوال گئے تھے اور جب وہاں ڈسٹربیوٹر سے رقم لیکر واپس آرہے تھے تو رشکئی انٹر چنج کے قریب ایکسائز وردی میں ملبوس اہلکاروں نے ہمیں روکا اور ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے، جہاں پشاور ٹول پلازے سے آگے رنگ روڈ کے قریب ہمیں اُتار کر نقد رقم 01کروڑ 10لاکھ روپے لیکر فرار ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے DIG مردان شیر اکبر خان نے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کیپٹن (ر) نجم الحسنین کی سربراہی میں دیگر افسران پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جنھوں نے سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر کیس کی تفتیش کی اور مختصر وقت میں ملزمان کے سرغنہ کو ٹریس کر لیا۔
ڈی پی او نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے ہمراہ ملزم شریف اللہ کو اسلام آباد میں گرفتار کرکے قانونی طریقہ کار سے نوشہرہ منتقل کیا گیا۔ گرفتاری کے دوران پولیس اور ملزم کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جسکا مقدمہ اسلام آباد میں درج کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم کے مزید 3 ساتھیوں کو بھی قانونی حراست میں لے لیا گیا ہے جنھوں نے اقرار جرم کرتے ہوئے سب اُگل دیا۔ ملزمان کی نشاندہی پر 94.5لاکھ روپے،واردات میں استعمال ہونے والی موٹر کار اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔ ملزم شریف اللہ کے قبضے سے اسلام آباد میں بھی اسلحہ برآمد کر لیا گیا تھا جو اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہے۔ ملزمان کے دیگر چند ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں اور انشاء اللہ ملزمان کو عدالت سے جلد ہی قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔











