تین روزہ ”آل پاکستان فلاور ،فروٹس اینڈ ویجییٹبل شو ” کا آغاز،پھولوں کی مدد سے تیار کیا گیا پاکستان کانقشہ عوام کی توجہ کا مرکز

79

کراچی ،19مارچ  (اے پی پی):تین روزہ ”آل پاکستان فلاور ،فروٹس اینڈ ویجییٹبل شو ” کا آغاز ہوگیا ، نمائش  میں 50 ہزار سے زائد پھولوں کی مددسے پاکستان کا نقشہ تیار کیا گیا تھا جوعوام کی توجہ کا مرکز رہا۔ نمائش میں 40 اقسام کے ایک لاکھ سے زائد پھول اور پودے رکھے گئے ہیں۔

نمائش کا اہتمام کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے پارکس اینڈہارٹیکلچر ڈیپارٹمنٹ نے ہارٹیکلچر سوسائٹی آف پاکستان کے اشتراک سے کیا تھا ۔صوبائی وزیر اطلاعات وبلدیات سید ناصر حسین شاہ نے نمائش کا افتتاح کیا ۔

 ناصرحسین شاہ نے پھولوں کی نمائش کے دوبارہ آجراء پر کے ایم سی ، ایچ ایس پی  اور دیگر تنظیموں کو مبارک باد دیتے ہوئے مستقبل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ اب اس نمائش میں کوئی تعطل نہیں آئے گا بلکہ گزشتہ سالوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سرسبز سندھ اور وفاق کے گرین پاکستان پروگرام کے تحت شہر قائد میں اربن فارسٹری کا آغاز کیا گیا ہے ، لیاری ندی اور ملیر ندی کے ساتھ ساتھ پارک لگائے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے مالی وسائل میں اضافہ اور استعداد کار بڑھانے پر کام ہورہا ہے ، چند مہینوں میں کے ایم سی اور ضلعی بلدیاتی ادارے اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں گے ۔

قبل ازیں یواین ڈی پی کے پاکستان میں نمائندہ قنوط اوسبے نے کہا کہ کراچی خوبصورت اور متحرک شہر ہے جہاں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی خاطر مختلف منصوبوں میں تعاون فراہم کررہا ہے ۔انہوں نے وفاقی حکومت کے کامیاب جوان پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا زیادہ حصہ نوجوانو ں پر مشتمل ہے اور انہیں ملک کی ترقی کے منصوبوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے ۔

 ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کراچی لئیق احمد نے  25 سال بعد نمائش کی بحالی کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ سول سوسائٹی کو ان اقدامات میں ساتھ لے کر چل رہے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ بہار یہ شجرکاری کے لئے کے ایم سی نے 70 ہزار پودے تیا رکئے ہیں جبکہ نجی تنظیموں نے 35 ہزار پودے فراہم کئے ہیں ۔ ان پودوں کی شجرکاری سے شہر کا ماحول بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ آلودگی پر قابوپانے کے لئے این ای ڈی یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت طے پائی ہے جس کے تحت شہر کے مختلف مقامات پر شجر کاری کی جائے گی ۔

ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان کے سربراہ فہیم صدیقی نے سوسائٹی کے قیام اور پھولوں کی قومی نمائش کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے کی پہلی نمائش 1950 میں منعقد ہوئی  اور یہ سلسلہ کئی عرصے تک جاری رہا ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں کے ایم سی کے 57 باغات اور پارکس ہیں ، ہارٹیکلچر سوسائٹی بعض باغات کا انتظام سنبھالنے  کی خواہاں ہے ۔

 ڈائریکٹرجنرل پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کے ایم سی طحہ سلیم نے بتایا کہ دنیا میں پھولوں سے تیار کردہ سب سے بڑا نقشہ کے ایم سی نے اپنے وسائل انجنیئرز اور مالیوں کی مدد سے تیار کیا ہے اور اس کی تیاری میں 50 ہزار سے زائدپھول استعمال ہوئے ہیں ، جنہیں کے ایم سی کی نرسریوں میں اگایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد شہریوں کو ماحول دوست تفریحی مواقع فراہم کرنا ہے ۔

 اس موقع پر صوبائی وزیرصنعت جام اکرام اللہ دھاریجو ، یواین ڈی پی کے پاکستان میں نمائندہ قنوط اوسبے ، کے ایم سی کے حکام ، سول سوسائٹی کے ممبران او رشہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔