کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی  نے  پی آئی اے کے احیاءنو منصوبہ کو منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کردی ، متعدد تکنیکی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری

10

اسلام آباد،7اپریل  (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پی آئی اے کے احیانو منصوبہ کو منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی ہے، احیاء نو  کے منصوبہ میں  رضاکارانہ علیحدگی سکیم (وی ایس ایس)، ہوابازی کے ماہرین کی خدمات کاحصول، بیڑے کی جدت، روٹس کومعقول بنانا، پراڈکٹ ڈولپمنٹ اورمحصولات میں اضافہ کیلئے اقدامات شامل ہیں۔ای سی سی نے متعدد تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری بھی دی ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس بدھ کویہاں وفاقی وزیرخزانہ، محصولات وصنعت وپیداراوحماداظہرکی زیرصدارت منعقدہوا۔ اجلاس میں کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کے فیصلہ کے مطابق فوری طورپربندکئے جانیوالے پاورپلانٹس کے  موجودہ ملازمین کے پنشن وواجبات کی ذمہ داری   اور  ڈسکوزکے سرپلس ملازمین کوپنشن اورپنشن سے متعلق مراعات کی ادائیگی کے ضمن میں جنیکوز کو ایک بارکی گرانٹ کی فراہمی سے متعلق سمری پیش کی گئی۔کمیٹی نے اس ضمن میں تمام متعلقہ شراکت داروں سے رائے معلوم کرنے کے بعد پاورڈویژن کو پنشن کے واجبات وذمہ داری سے متعلق لاگت کو معقول بنانے کا مزیدجائزہ لینے اوراس بارے مختف تجاویز کمیٹی کے روبروپیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں ہوابازی ڈویژن کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنزکارپوریشن لیمیٹڈ کے احیانو سے متعلق منصوبہ کی سمری پیش کی گئی، وزیراعظم کے مشیربرائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹرعشرت حسین نے انسانی وسائل اورپی آئی اے کے آپریشنل ری سٹرکچرنگ بارے تفصیلی پریزینٹیشن پیش کی۔انہوں نے پی آئی اے کی ری رسٹرکچرنگ، ادارے کے خسارے میں کمی اوراسے مالیاتی طورپرفعال ومتحرک ادارہ بنانے کے ضمن میں مختلف آپشنز پیش کئے جس میں رضاکارانہ علیحدگی سکیم (وی ایس ایس)، ہوابازی کے ماہرین کی خدمات کاحصول، بیڑے کی جدت، روٹس کومعقول بنانا، پراڈکٹ ڈولپمنٹ اورمحصولات میں اضافہ کیلئے اقدامات شامل ہیں۔ای سی سی نے تفصیلی بحث ومباحثہ اور ٹیکس واجبات پرمفاہمت کے بعد  پی آئی اے کے احیانوپلان کو منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی، کمیٹی نے  پی آئی اے کے  مستقبل میں قرضہ کی شرح،  جواحیانوپلان کے نٖفاذ اوربیلنس شیٹ میں بہتری کی صورت میں پی آئی اے لے سکتی ہے،  پرکیپ مقررکرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں طیاروں کی مرمت وبحالی کیلئے وزارت دفاع کیلئے 33 کروڑروپے،  وزیراعظم کے سکلزفارآل حکمت عملی کے نفاذ کیلئے وزارت وفاقی تعلیم وپیشہ وارانہ اہمیت کیلئے دوارب، 38 کروڑ، 20 لاکھ روپے،انصاف امداد احساس پروگرام کے ضمن میں ری فنڈ کیلئے وزارت خزانہ کیلئے ایک ارب روپے،  صوبہ سندھ اوربلوچستان میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف سکیموں کی تکمیل کے ضمن میں وزارت توانائی کیلئے 38 کروڑ، 22 لاکھ، 80 ملین روپے،   پی ایس ڈی پی کے تحت بلوچستان میں سول ورک کے ضمن میں وزارت ہاوسنگ کیلئے 15 کروڑروپے،  سرمایہ کاری بورڈ کے مختلف اخراجات کیلئے 3 کروڑروپے اور انٹرنیٹ ووٹنگ کے نفاذاور کنسلٹنسی کے ضمن میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی مواصلات کیلئے 28 کروڑ روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی،ترقی وخصوصی اقدامات اسدعمر، وزیرتوانائی عمرایوب خان، وزیرنجکاری محمدمیاں سومرو، وفاقی وزیرقومی غذائی تحفظ وتحقیق سیدفخرامام، وزیراعظم کے مشیربرائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹرعشرت حسین، معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر، مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے محصولات ڈاکٹروقارمسعود، وفاقی سیکرٹریز، گورنرسٹیٹ بینک، چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ اورسینئیرافسران نے شرکت کی۔