اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کا اجلاس

25

اسلام آباد، 05 اپریل(اے پی پی):اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی مصنوعات کا اجلاس ہوا،اجلاس میں ملک بھر میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ چھوٹے کسانوں کا ہونے والے نقصان کے ازالہ کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں زراعت کے شعبے کی ترقی اور زرعی مصنوعات  میں اضافے کے لیے آئندہ کے لیے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

معاون خصوصی عثمان ڈار نے کامیاب نوجوان پروگرام اور کامیاب کسان پروگرام سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کا بہت اچھا فیڈ بیک آیا ہے،کسانوں کو خوشحال بنانے میں نوجوانوں کا سرگرم کردار کلیدی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے 45 سال سے کم عمر کے جوانوں کو قرضے دیے جائیں گے،15 سے 20 ڈسٹرکٹ میں یہ پروگرامز شروع کیا جائے گا۔

 عثمان ڈار نے کہا کہ کامیاب جوان کے ذریعے نوجوانوں کو ٹرینگ دی جا رہی ہے،خوشحال کسان اور خوشحال پاکستان ہی موجود حکومت کی ترجیحات ہے۔انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام سکلز فار آل کا پروگرام کامیابی سے جاری ہے اور1 لاکھ سے دس لاکھ تک جو قرضہ دیا جائے گا اس پر 3 پرسنٹ چارج کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں 10 لاکھ سے 1 کروڑ تک قرضے پر 4 فیصد ہے چارج ہوگا جبکہ تیسرے ٹیر میں 1 کروڑ سے اڑھائی کروڑ تک قرضے  پر 5 فیصد چارج کیا جائے گا۔

 عثمان ڈار نے کہا کہ زراعت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے نوجوانوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،  اس کمیٹی کی ذریعے کامیاب نوجوان کو بہت اہمیت حاصل ہو گی۔انہوں نے کہا کہ زرعی مصنوعات کی کمیٹی کی توسط سے میں یقین دلاتا ہوں کے خوشحال کسان اور خوشحال جوان پروگرام پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

رکن قومی اسمبلی شندانہ گلزار نے کہا کہ 12 مارچ 2020 کو کمیٹی نے زراعت اور خوراک کے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا آغا کیا تھا۔انہوں نے کہا۔کہ کامیاب جوان، کامیاب کسان، احساس پروگرامز اور سی پیک موجود حکومت نمایاں پروگراموں میں شامل ہیں۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاتا اس شعبے کو ترقی دلوانا اسان نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیش آنے والے مسائل تمام صوبوں کو سامنا ہے۔

رکن قومی اسمبلی احسان اللہ ٹوانہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے باشیں یا تو بہت کم ہوتی ہیں یا بہت زیادہ ہوتی ہیں،تھل کے علاقے کو مسلسل تبائی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ برانی علاقوں میں بارشیں نا ہونا فصلوں کی تبائی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ احسان اللہ خان ٹوانہ کے تھل کے علاقے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کو خصوصی طور پر دیکھا جائے،تھل ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ہے۔

وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی فخر امام نے کہا کہ 16 دستمبر 2019 کو گندم کی قیمت بڑھی،  17 سو 50 روپے فی من کی سمری  وفاق کے سامنے رکھی تھی، سندھ میں گندم کی قیمت 2000 روپے من ہونے  کی وجہ سے پنجاب میں 1800 روپے فی من کرنا پڑا۔

اس موقع پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات پر پر من و عن عملدرآمد کی ضرورت ہے،کسان خوشحال ہو گا تو پاکستان خوشحال ہو گا۔انہوں نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک کے مینڈیٹ کو تبدیل کرنے کے لیے قانون سازی بھی کی جا سکتی ہے۔

وزیر خزانہ حماد  اظہر نے کہا کہ وزارت خزانہ کا زرعی مصنوعات کی کمیٹی کو بھرپور تعاون حاصل رہے گا، وزیراعظم عمران خان  زراعت کے شعبے کی ترقی کے خواہاں ہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کسان اور خریدار دونوں خوشحال ہوں۔