پشاور، 28اپریل(اے پی پی): تاجر برداری کی 11رکنی کمیٹی نے آج یہاں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے ملاقات کرکے چھوٹے تاجروں کو درپیش مسائل پر بات کی۔
جرگہ ممبران نے وزیراعلی کو درجہ ذیل سفارشات پیش کیں۔1-تاجروں کی بے عزتی کی روک تام, 2-فورسز کی عوام پر اطلاق کو موخر کرنا, 3- پاپرٹی ٹیکس, واٹر اینڈ سینی ٹیشن ٹیکس, ٹاؤنز ٹیکسز,سیلز ٹیکس وغیرہ کا 5 سال تک ختم کرنا, 4- تاجروں کی 27 تاریخ کی لاک ڈاؤن کی کینسیلیشن, 5- بینکوں سے بلا سود 5 سال کیلئے قرضے فراہم کرنا, 6- تاجروں اور حکومتی کوآرڈینیشن کونسل کا قیام جسمیں پولیس, ضلعی انتظامیہ اور تاجر برادری نمائندہ کونسل کے ممبران ہوں گے تاکہ تاجر کی عزت بحال ہو. 7- ہوٹلز, ریسٹورنٹس اور شادی ہالز سمیت تمام کاروباری حضرات اور محنت کش مزدوروں کی اجرت اور معاونت کیلئے کاروبار کھولنا اور مراعات فراہم کرنا. 8- سوشل سیکورٹی کے نظام کو محنت کش مزدور کیلے بین الاقوامی طرز پر بنانا تاکہ مزدور محنت کش کی صحت, تعلیم, بے روزگاری الاؤنس اور نان نفقہ سیکیور ہو. 9-ہفتہ اتوار کی چھٹی کے سات جمعہ کے دن کا مسئلہ بھی حل کر لیا گیا, 10-درزی, کپڑا, چپل شاپ اور باربر ہیر ڈریسرز سمیت عید سے منسلک کاروبار کو رواں دواں جاری رکھنا، جس پر وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے تاجر جرگہ مشران کو یقین دہانی کی جبکہ جرگہ ممبران میں صدر ملک مہر الہی،صدر عبدالنصیر خان ،صدر حاجی افضل ،صدر خالد ایوب،خالد گل مہمند،صدر شیر زادہ ،صدر شرکت علی مبارک ،شفیع بازار جنرل سیکٹری حضرت خان باجوڑی،مرکزی ترجمان ہارون صافی شامل تھے۔











