اسلام آباد، 22جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عام بحث جمعرات کو بھی جاری رہی، حکومتی اراکین نے بجٹ کو عوام دوست اور مشکل حالات میں بہترین قراردیا ۔
وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے بجٹ سنا ہوتا تو معلوم ہوتا کہ کس چیز سے اختلاف ہے۔ جب مرکزی قیادت پلے کارڈ لے کر یہاں کھڑی ہو تو جونیئرز سے کیا توقع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن صرف تنقید برائے تنقید کرتی ہے۔ کیا یہ ایوان ڈیبیٹنگ کلب ہے۔ یہاں بامعنی بحث ہونی چاہیے۔ اپوزیشن اپنا شیڈو بجٹ لاتی، اس بارے تجاویز دیتی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے لاڑکانہ میں مزدور کے قتل کے حوالے سے رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کردی ۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اجلاس کے آغاز پر وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور نے کہا کہ انہوں نے سپیکر کے حکم پر لاڑکانہ میں مزدور کے قتل کے حوالے سے آئی جی سندھ سے بات کی ہے جو معلومات ان سے ملی ہیں وہ میں نے متعلقہ لوگوں تک پہنچا دی ہیں جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سیمی بخاری نے کہا ہے کہ عمران خان کے ویژن کے تحت ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے، ماضی کے حکمرانوں نے منی لانڈرنگ اور کرپشن کے ذریعے ملک کو لوٹا مگر وزیراعظم اپنی ذات کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا سوچتے ہیں۔
ڈاکٹر سیمی بخاری نے کہا کہ بابائے قوم کی رحلت کے بعد ملک ایسے سیاستدانوں کے ساتھ چڑھ گیا جنہوں نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک کو لوٹا، مہنگی بجلی بنانے کے منصوبے لگائے اور ملک کو اندھیروں کی نذر کردیا۔ 70 سال بعد قوم جاگی اور ایک ایسا لیڈر منتخب کیا جو اپنی ذات کا نہیں آنے والی نسلوں کا سوچتا ہے۔ اس لیڈر کا نام عمران خان ہے۔ عمران خان کے ویژن سے معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ جب ہمیں حکومت ملی تو اس وقت خزانہ خالی تھا۔ ہمارا جی ڈی پی چار فیصد آچکا ہے۔ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ صنعتیں چل پڑی ہیں۔ لوگوں کو روزگار مل رہا ہے، بیرون ملک سے ہمیں آرڈرز مل رہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو ڈبلیو ایچ او سمیت عالمی سطح پر سراہا گیا۔ اپوزیشن لیڈر یہ کہتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے تو یہ بھی بتائیں کہ خزانہ کس نے خالی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ عوامی بجٹ ہے۔ اس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن میں اضافہ سمیت بلاسود قرضوں کی فراہمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ دیامیر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیموں کی تکمیل سے خوشحالی آئے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وینکوانی نے کہا ہے کہ بجٹ کتابوں پر بسم اللہ اور پاکستان کا نقشہ دیکھا تو میں نے پہلے ہی دن یہ کتابیں پائوں میں رکھنے کی بجائے اپنی گاڑی میں رکھیں، جو کچھ ایوان میں ہوا پہلے نہیں دیکھا،سینئر سیاستدانوں کو کہنا چاہیے تھا کہ یہ غلط ہو رہا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف تماشا نہیں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں کوئی بھی بل آتا ہے اس پر بحث نہیں ہوتی، بجٹ بحث کے دوران سیکرٹری اور ایف بی آر کے چیئرمین کو موجود ہونا چاہیے لیکن ایسا کوئی بندہ نہیں جو ان نکات کو نوٹ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ روایات ڈالنی چاہئیں کہ ارکان عوام کی نمائندگی کریں ایک دوسرے کے گریبان نہ پکڑیں۔ اس ایوان کی اخلاقیات کمیٹی بننی چاہیے۔ بجٹ ہمیشہ خارجہ پالیسی کو مدنظر رکھ کر بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو اپنی اندرونی چپقلشوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیٹف اور آئی ایم ایف ہمارے لئے چیلنج ہیں جو عالمی اداروں کے زیر اثر ہیں۔ انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کی صورتحال کے حوالے سے وفاقی وزیر اسد عمر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ان کی حکمت عملی اور کوآرڈینیشن پر وزیراعظم عمران خان اور اسد عمر کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں گزارش کرتا ہوں کہ پالیسیوں میں تبدیلی آنی چاہیے، افسروں کے ساتھ جب تک صبر اور پیار سے پیش نہیں آئیں گے صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے اثرات ایران پر بھی مرتب ہوں گے۔











