اسلام آباد،30جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو بتایا گیا ہے کہ ایل این جی ٹرمینل مرمت کیلئے ایک ہفتہ کیلئے بند کیا گیا ہے، 5 جولائی سے ٹرمینل سے گیس کی سپلائی بحال ہو جائے گی، گھریلو و کمرشل صارفین ،برآمدی صنعتیں اور بجلی کا شعبہ گیس کی فراہمی کیلئے ترجیح ہیں، گیس کی فراہمی کم ہونے سے بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے، پٹرولیم کے شعبہ کا گردشی قرضہ 1100 ارب روپے ہے، یکم ستمبر سے وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ سے پٹرول اور ڈیزل کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عبدالقادر کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز کانفرنس کا ل میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت پیٹرولیم اور اس کے ماتحت اداروں کے کام کے طریقہ کار، نوعیت اور کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ کے علاوہ حکومت کی پٹرولیم پالیسی اور اس حوالے سے نئی ڈویلپمنٹس، آئل اور گیس سیکٹر کو درپیش مسائل، تیل و گیس کی تلاش میں نئے معاہدات اور بجلی و گیس کی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی س نے کہا کہ ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا یہ پہلا اجلاس ہے۔تمام اراکین کمیٹی، وزارت پیٹرولیم اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو کمیٹی اجلاس میں خوش آمدید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراکین کمیٹی اور وزارت کے حکام کے ساتھ مل کر معاملات کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔قائمہ کمیٹی وزارت اور حکومت کے درمیان پل کا کردارادا کرتی ہے۔کوشش کی جائے گی کہ تمام اراکین کمیٹی اور وزارت کے ساتھ مل کر موثر حکمت عملی کے تحت معاملات کو مزید بہتر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے انجام دیں۔ مقامی وسائل کو بہتر کیا جائے۔ لوکل اور باہر کی کمپنیوں کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ میسر ہو۔
سیکرٹری پیٹرولیم ڈاکٹر ارشد محمود نے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت پٹرولیم ڈویژن میں کل منظور شدہ اسامیوں کی تعداد174 ہے جن میں سے 61 آفسیر اور113 دوسرا سٹاف ہے۔ خالی اسامیوں کی تعداد15 ہے جن میں سے 14 افسران کی خالی ہیں جبکہ پٹرولیم ڈویژن پالیسی ونگ میں کل اسامیوں کی تعداد223 ہے ان میں سے 49 خالی ہیں۔ افسران کی تعداد 62 ہے جن میں سے 21 خالی ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ لسٹیڈ کمپنیوں کی تعداد 5 ہے جن میں پی ایس او، سوئی سدرن گیس، سوئی ناردرن گیس، پاکستان پٹرولیم اور اوگرا شامل ہے جبکہ نان لسٹیڈ کمپنیوں کی تعداد8ہے جن میں پاک عرب ریفائنری، گورنمٹ ہوڈنگز، انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم، پاکستان ایل این جی، پاکستان مینلر ل ڈویلپمنٹ کارپوریشن، لاکھڑا کول ڈویلپمنٹ، سینڈک میٹلز اور انارپیٹروٹک شامل ہیں۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عبدالقادر کے سوال کے جواب میں قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سسٹم میں 3800 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی پیداواری صلاحیت ہے،1200 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی کے دو ٹرمینل بھی اسی میں شامل ہیں۔ایل این جی ٹرمینل کو مرمت کی وجہ سے ایک ہفتے کیلئے بند کیا گیا ہے۔ٹرمینل کو 6 سال بعد مرمت کیا جا رہا ہے،5جولائی سے ٹرمینل سے گیس سپلائی بحال ہو جائے گی۔گھریلو کمرشل صارفین، ایکسپورٹ انڈسٹریز، پاور سیکٹر کو گیس سپلائی ترجیح ہے۔گیس سپلائی کم ہونے سے بجلی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے۔تربیلا سے بھی 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے، پٹرولیم سیکٹر کا گردشی قرضہ 11 سو ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ایم ڈی سوئی سدرن نے کمیٹی کو بتایا کہ گیس ختم ہو رہی ہے اور درآمد کر رہے ہیں، یہ بڑا چیلنج ہے۔سوئی ناردرن کو 9 فیصد اور سدرن کو 14 فیصد لاسز کا سامنا ہے۔لاسز پر قابو پانے کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔2017 میں کرک فیلڈ میں 34 فیصد لاسز تھے جو اب 8 فیصد ہو گئے ہیں۔سیکرٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ وائٹ پائپ لائن منصوبہ جلد مکمل ہو جائے گا۔یکم ستمبر سے پائپ لائن کے ذریعے پٹرول و ڈیزل کی ترسیل شروع ہو گی۔شروع میں ملکی ضرورت کا 35 فیصد آئل پائپ لائن کے ذریعے ترسیل کیا جائے گا۔ پائپ لائن کے ذریعے ترسیل ٹرانسپورٹ اخراجات کم ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تیل و گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کیلئے کوشاں ہیں۔
کمیٹی کو ڈی جی کنسیشن نے بتایا کہ ملک کو تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور زون ایف بعد میں شامل کیا گیا ہے جہاں سے گیس نکلتی ہے زون کے لحاظ سے علیحدہ قیمت ہوتی ہے۔ زون ون ہائی رسک ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بڑی کمپنیاں واپس چلی گئی ہیں بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ویران علاقوں میں کام کرتے ہیں اور سیکورٹی پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے۔ پیرا ملٹری فورس سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے تاکہ سیکورٹی پر کم خرچہ ہو اور باہر کی کمپنیوں کیلئے آسانی پیدا ہو ورنہ مقامی کمپنیاں آگے آتی ہیں۔سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ پی ایس او نے مختلف سرکاری اداروں سے 355 ارب روپے لینے ہیں۔
سینیٹر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ کس کس فیلڈ میں سیکشن فور نہیں لگایا جاتا اور اگر کہیں سیکشن فور نہیں لگایا جاتا تو کتنا کرایہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کیلئے ایک یکساں پالیسی ہونی چاہیے اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک آئل ریفائنری لگانے کیلئے 14 سے15 ارب ڈالر لاگت آتی ہے۔ پاکستان میں قائم ریفائنریز کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے جس پر3.5 ارب ڈالرلاگت آئے گی۔ 70فیصد خرچہ ریفائنری خود براداشت کرے گی۔ اڑھائی سے 4 لاکھ بیرل کا راستہ خود نکل آئے گااور بے شمار لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کروڈ آئل کی درآمد پر ڈیوٹی 5 فیصد سے اڑھائی فیصد کر دی ہے۔ ڈیزل کی درآمد پر ڈیوٹی 13 سے10 فیصد کر دی ہے۔ نئی ریفائنری لگانے پر 20سال تک انکم ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک کے سوا تین کروڑ گھروں میں سے ایک کروڑ گھروں کے پاس گیس کنکشن نہیں ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی میں منظوری کے بغیر تعمیر ہونے والی عمارتوں پر میٹر لگانے کی اجازت نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ صارفین انڈر گراؤنڈ سسٹم سے گیس لیتے تھے اور انہی کو بل ادا کرتے تھے۔ 700 عمارتوں کو ریگولر کر دیا گیا ہے، 30 ہزار لوگوں میں سے 50 فیصد نے بل ادا کر دیئے ہیں۔ نان ریگولر عمارتوں پر میٹر لگانے کی اجازت ملنے سے گیس چوری پر کنڑول کیا جا سکتا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے باقی ایجنڈا آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، انجینئر رخسانہ زبیری، سعدیہ عباسی، آفنان اللہ خان، قرت العین مری، پرنس احمد عمر احمد زئی، عون عباس، سرفرا احمد بگٹی، عطاالرحمن کے علاوہ سیکرٹری پٹرولیم، ایم ڈی سوئی سدرن گیس، ایم ڈی سوئی نادران گیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔