اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور انتظامیہ ن لیگ کی تھی، پھر بھی دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں، ن لیگ کو اپنی شکست تسلیم کرلینی چاہئے، اپوزیشن جب کسی الیکشن میں ہارتی ہے تو دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیتی ہے، اپوزیشن سمجھتی ہے کہ انتخابی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تو وہ آئے اس پر بات کرے، ہم نے 49 نکات پر مبنی اصلاحات رکھ دی ہیں، جہاں پر ہم غلط ہیں وہاں اپوزیشن اپنی اصلاحات لے آئے، الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں کوئی تعطل نہیں، الیکشن کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حق رائے دہی کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنایا جائے، وفاقی کابینہ نے تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کے قیام کی منظوری کے علاوہ ملک کی پہلی نیشنل سائبر سیکورٹی پالیسی اور حکومتی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2021ءکی منظوری دے دی ہے، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو جاپان سے پانچ ایمبولینس درآمد کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ وفاقی کابینہ نے جمہوریہ چیک کے ساتھ دوہری شہریت رکھنے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے فیصلہ کیا کہ 30 نومبر2021ءتک چینی پر سیلز ٹیکس کا نفاذ ایکس مل پرائس پر کیا جائے گا، ہدف کے مقابلے میں کورونا ویکسین لگانے کی شرح کم ہے، سرکاری ملازمین کے لئے ویکسین لگوانا لازمی قرار دیا جا رہا ہے، ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل فون سم بند کرنے کا آپشن موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر الیکشن ہارے ہیں اس لئے دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی حکومت اور اپنا لگایا ہوا الیکشن کمشنر ہے، تو ایسے میں دھاندلی کون کر سکتا ہے؟ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کو آزاد کشمیر الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی پر مبارکباد دی گئی۔ وفاقی کابینہ نے وفاقی وزراءعلی امین گنڈا پور، مراد سعید، علی محمد خان اور شہر یار آفریدی سمیت دیگر تمام لوگوں کو سراہا جنہوں نے اس الیکشن مہم میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی کشمیر میں کامیابی وزیراعظم کی پالیسیوں کی بدولت ہے اور یہ کامیابی ان پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں آزاد کشمیر الیکشن میں الیکشن ڈیوٹی پر مامور پاک فوج کے چار جوانوں اور پی ٹی آئی کے کارکنان کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ زخمیوں کے علاج معالجہ کیلئے ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ انصاف ہونا چاہئے اور ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ کو وفاقی دارالحکومت، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا میں سیاسی رہنماؤں بشمول وزراءاعلیٰ، وزرا، مشیران و معاونین، جج صاحبان، سابقہ صدور و وزیرِ اعظم صاحبان اور سرکاری شخصیات کے ساتھ تعینات سیکیورٹی اہلکاروں اور ان پر اٹھنے والے اخراجات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت پولیس کی جانب سے صدر ، وزیرِاعظم، گورنرز، وزرااعلیٰ،وفاقی وزرا، وزرائے مملکت ، مشیران اور معاونین خصوصی کی سیکورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14رینجرز جبکہ 50 ایف سی رہلکار تعینات ہیں جن پر کل 700.98 ملین سالانہ اخراجات ہیں۔ جج صاحبان کی سیکورٹی پر 377 پولیس اہلکار، 24 رینجرز اور 8ایف سی اہلکار تعینات ہیں جن کے اخراجات 287.368 ملین روپے سالانہ ہیں ۔ لاہور میں تقریباً 1143 ملین روپے خرچہ ہو رہا ہے۔ اس میں کے پی، سندھ اور بلوچستان شامل نہیں ہے۔ اسی طرح سرکاری شخصیات کی سیکیورٹی پر کل 106 پولیس اہلکار، 4 رینجرز، 47 ایف سی اہلکار تعینات ہیں جن کا خرچہ 109.7ملین روپے ہے۔ اس طرح یہ کل خرچہ 1098.08ملین روپے سالانہ ہے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے وزیرِاعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ کو سیکورٹی فراہم کرنے کا سالانہ خرچہ 446.86 ملین روپے ہے۔ سابقہ وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراءاور مشیران و معاونین خصوصی کو سیکورٹی فراہم کرنے کی مد میں 105.87ملین روپے، جج صاحبان کو سیکورٹی فراہم کرنے کی مد میں 1143.17 ملین روپے جبکہ سرکاری شخصیات کو سیکورٹی فراہم کرنے کی مد میں 833.616 ملین روپے سالانہ کے اخراجات ہیں۔ اس طرح کل اخراجات 2529.5 ملین روپے سالانہ ہیں۔ سیکیورٹی کی فراہمی میں خیبرپختونخوا پولیس کے سالانہ اخراجات تقریباً 998.34 ملین روپے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ذمہ داری ٹیکس گزاروں کے پیسے کا تحفظ ہے۔ عوام کو یہ اعتماد ہونا چاہئے کہ ان کے ٹیکس کے پیسے کا جائز استعمال ہو رہا ہے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سیکورٹی بطور اسٹیٹس سمبل نہیں بلکہ جائز ضروریات کی بنیاد پر فراہم کی جائے گی۔ اس حوالے سے کابینہ نے اعلیٰ سطح کی تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کے قیام کی منظوری دی ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی ہے کہ سیکورٹی کی فراہمی کے حوالے سے معیار مقرر کرنے کیلئے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ یہ جمہوریت کا بنیادی اصول ہے، جہاں جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے وہاں تھریٹ کا جائزہ لے کر سیکورٹی کا بندوبست کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے مالی بچت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور مشیر پارلیمانی امور نے کابینہ کو اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ الیکشن کے حوالے سے کسی بھی قسم کے تحفظات کو مکمل طور پر دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حق رائے دہی کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے اپوزیشن کی بے معنی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے کابینہ نے نوٹ کیا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال اس امر کو یقینی بنانے میں مدد دے گا کہ انتخابی عمل پر کسی قسم کا اعتراض نہ اٹھایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن جب کسی الیکشن میں ہارتی ہے تو دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیتی ہے۔ جہاں وہ جیت جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ حکومت کی مقبولیت ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں کبھی حکومتیں نہیں ہارتیں، مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی اپنے دور میں جب ضمنی انتخاب لڑتی تھیں تو پوری حکومت اپنے امیدوار کے پیچھے کھڑی ہو جاتی تھی اور وہاں اتنا پیسہ چلا یاجاتا تھا کہ الیکشن تو کامیاب ہونا ہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلی مرتبہ صاف اور شفاف ضمنی انتخابات کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن سمجھتی ہے کہ انتخابی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تو وہ آئے اس پر بات کرے، ہم نے اپنی 49 نکات پر مبنی اصلاحات رکھ دی ہیں، جہاں پر ہم غلط ہیں وہاں اپوزیشن اپنی اصلاحات لے آئے اور بتائے کہ اسے ٹھیک کرنا ہے، ہم اس پر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ معاملات بہتر طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ انتخابی اصلاحات پر ایک کمیٹی قائم ہے، پارلیمان کی کمیٹی اس پر مزید آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیگر معاملات پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں جن میں نیب کا قانون، الیکٹورل ریفارمز بھی شامل ہیں۔ ہم ان معاملات پر آگے بڑھنے میں سنجیدہ ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں کاروبار کا آغاز کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے درکار سرکاری منظوریوں، این او سیز و دیگر قواعد و ضوابط اور اس کے نتیجے میں کاروباری برادری خصوصاً نیا کاروبار شروع کرنے والے افراد کی مشکلات کے پیش نظر کابینہ نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے سرمایہ کاری بورڈ کو اختیار دیا ہے کہ وہ کاروباری عمل کو آسان بنانے کے حوالے سے فرسودہ قوانین و شرائط کو ختم کرنے کے لئے مجوزہ قانون سازی کرنے کے عمل کا اجراءکرے۔ انہوں نے بتایا کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سے اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں موجودہ دور میں پاکستان نے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سرمایہ کاری سے متعلق پاکستان کے بیرونی ممالک سے معاہدوں کے حوالے سے نئے فریم ورک اور حکمت عملی کی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے ممالک سے لوگ پاکستان آتے ہیں، یہاں ان کے کاروباری مسائل ہوتے ہیں، ریکوڈک اور دیگر کیسز میں ہمارا بھاری نقصان ہوا ہے، ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں پاکستان کو قانونی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو جاپان سے پانچ ایمبولینس درآمد کرنے کی اجازت دی۔ یہ ایمبولینس جاپان حکومت کے ادارے سوسائٹی فار پروموشن آف جاپان ڈپلومیسی ٹوکیو کی جانب سے عطیہ کی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سیکرٹری داخلہ نےای الیون سیکٹر میں ڈویلپمنٹ کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن میں عدالت کے حکم نامے سے کابینہ کو آگاہ کیا۔ کابینہ نے سی ڈی اے کو عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کے ساتھ ساتھ ان معاملات پر غور کرنے کے لئے کمیٹی کے قیام کی منظوری دی جو دو ہفتے میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد چونکہ نیا شہر تھا، یہاں حکومت نے دیہات کو ایکوائر کیا تو ان کے مالکان کو یا تو پلاٹ دیئے گئے یا معاوضہ۔ انہوں نے بتایا کہ طاقتور لوگوں نے مقامی لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شاندار فیصلہ دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ طاقتور لوگ تو اپنے راستے نکال لیتے ہیں لیکن قانون کو کمزور لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ نسیم حسین اور شبیر نامی پاکستانی شہریوں کی حوالگی کے حوالے سے متحدہ عرب امارات حکومت کی درخواست پر غور کا ایجنڈا موخر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے ایف آئی اے کی عمل داری کو مزید موثر بنانے کے لئے پریونشن آف ٹریفکنگ ان پرسن ایکٹ 2018ءاور پریونشن آف سمگلنگ آف مائیگرینٹس ایکٹ 2018ءکو ایف آئی اے ایکٹ 1974ءکے شیڈول میں شامل کرنے کی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ نے جمہوریہ چیک کے ساتھ دوہری شہریت رکھنے کی تجویز کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ جمہوریہ چیک نے ہمارے لئے اپنے قانون میں ترمیم کی ہے اور اب پاکستان نے بھی اجازت دی ہے کہ جمہوریہ چیک کے ساتھ دوہری شہریت رکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ملک کی پہلی نیشنل سائبر سیکورٹی پالیسی کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج ہم ساری بینکنگ ٹرانزیکشنز اے ٹی ایم اور موبائل فون پر کر رہے ہیں، اگر ریکارڈ ہیک ہو جائے تو بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی کابینہ نے حکومتی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی 2021ءکی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کو فوری ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، ایسا نظام پہلی مرتبہ وضع کیا گیا ہے، ہم نے تمام ادائیگیاں مکمل کرلی ہیں لیکن اب بھی کچھ ایسے ادارے ہیں جو اپنے ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو خود بھی خیال کرنا چاہئے انہیں اپنے ورکرز کو ادائیگیاں کرنی چاہئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل میڈیا کو حکومت کی ایڈورٹائزمنٹ میسر ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ 2018ءمیں پہلی مرتبہ وزیر اطلاعات بنے تو انہوں نے وزارت خزانہ کو خط لکھا کہ اس وقت تین سے چار ارب روپے کی ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ ہو رہی ہے جو آئندہ دو سے تین سال میں دو گنا ہو جائے گی لیکن اس میں دو چار سال میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایڈورٹائزمنٹ کو ایڈوانس موڈ میں لے گئے ہیں جس کے نتیجے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، شفافیت کا اصول بھی متعارف کرایا ہے، پی آئی ڈی پہلی مرتبہ پیپر لیس ہے، تمام کام ڈیجیٹل طریقے سے ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے کمانڈر راحت احمد اعوان ، ستارہ امتیاز (ملٹری) کی بطور منیجنگ ڈائریکٹر کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کراچی تعیناتی کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ کابینہ نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔ چیف ماہر شماریات کی تعیناتی کا ایجنڈا موخر کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے بورڈ آف گورنرز میں چار ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی۔ ان ممبران میں معین رضا خان، سید فراست شاہ، ڈاکٹر عبداللہ ملک اور شاہد سلیم خان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کابینہ نے جینکو ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ احمد تیمور ناصر، ڈائریکٹر و ممبر جی ایچ سی ایل بورڈ آف ڈائریکٹرز، کو مستقل چیف ایگزیکٹو تعیناتی تک عارضی طور پر چارج دینے کی منظوری دی۔ کابینہ نے جینکو ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 15جولائی2021ءکے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 16 جولائی2021ءکے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔ ان فیصلوں میں کووڈ 19 کے دوران موبائل براڈ بینڈ خدمات کی بہتری کے لئے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں این جی ایم ایس (نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز) سپیکٹرم کا اجراءشامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے فیصلہ کیا کہ 30 نومبر2021ءتک چینی پر سیلز ٹیکس کا نفاذ ایکس مل پرائس پر کیا جائے گا۔ کابینہ کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ 31 جولائی تک تمام سرکاری اداروں کے ملازمین کورونا ویکسی نیشن کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز پاکستان میں چھ لاکھ 50 ہزار افراد کو کووڈ کی ویکسین لگائی گئی، ابھی تک ہم اپنے اہداف میں پیچھے ہیں، اگست تک ہمارا ہدف 40 فیصد آبادی اور سال کے اختتام تک 70 فیصد آبادی کو ویکسین لگانا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریاست کی زیر ملکیت اداروں کو اس میں شامل کیا جائے جن میں واپڈا، اسٹیٹ بینک اور زرعی بینکوں سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے اداروں میں ویکسین کا اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر ہم ویکسین نہیں لگاتے اور کووڈ کے معاملات پر قابو نہیں پاتے تو اس سے معاشی مشکلات پیدا ہوتی ہیں، ہمیں کاروبار اور سکول بند کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام وزارتوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ جو لوگ ویکسین نہیں لگوائیں گے تو ہم موبائل فون سم بند کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ممبران کے حوالے سے مشاورت پارٹی کے اندر شروع ہو چکی ہے، اگلے دو تین دنوں میں ہم اپنے طور پر نام کو حتمی شکل دے دیں گے۔ اس کے بعد وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کو تحریر کریں گے تاکہ وہ اپنے نام دے سکیں۔ یہ آئینی تقاضا ہے، اس بارے میں تعطل کی خبریں غلط ہیں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملہ پر کوئی تعطل نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبے اپنی ایڈورٹائزمنٹ خود کرتے ہیں، سندھ حکومت نے پہلے ہی اپنی ڈیجیٹل پالیسی دے دی ہے۔ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، وہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ میں ٹی وی اور اخبار کی نسبت شفافیت اس لئے زیادہ ہے کہ اس میں کلکس کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ نور مقدم کیس کے حوالے سے ایک سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ملزمان جیل میں ہیں، جب ای سی ایل میں نام ڈالنے کا معاملہ آیا تو نام بھی ڈال دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیا کو بڑے کرمنل کیسز کا جائزہ لینا چاہئے، تمام کیسز میں لوگوں کو سزائیں ہوئی ہیں، نور مقدم کے کیس میں بھی انصاف ہوگا اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ واقعات ہر جگہ ہوتے ہیں، ہمارے ہاں دنیا کے مقابلے میں جرائم کی شرح بہت کم ہے، پاکستان ایک محفوظ ملک ہے۔











