ترکی میں15  جولائی 2016ء میں فوجی بغاوت ہوئی، جو جمہوریت کے خلاف شب خون مارنے، مذہب کو اپنے مقاصد  کیلئے  استعمال کرنے کا سیاہ باب تھا؛ ترک سفیر احسان مصطفی یردکل

22

اسلام آباد، 13 جولائی   (اے پی پی ): پاکستان میں  ترک سفیر احسان مصطفی یردکل نے کہا ہے کہ  ترکی میں15  جولائی 2016ء میں حکومت کے خاتمے کے لئے فوجی بغاوت ہوئی ، جس دوران   تمام اقدار کو پامال کیا گیا، جس کا  مقصد  منتخب حکومت کا خاتمہ اورمخصوص گروپ اور فتح اللہ گولن کی حکومت قائم کرنا تھا،فوجی بغاوت کے پیچھے موجود عناصر نے حکومتی اداروں، سیاسی شخصیات، عوام کو ہدف بنایا ،15جولائی ، 2016ء، جمہوریت کے خلاف شب خون مارنے، مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا سیاہ باب تھا۔

ترکی میں جمہوری جدوجہد اور 15 جولائی 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے حوالے  سے   منگل کو  یہاں   ترکی  کے  سفارتخانہ میں پریس کانفرنس میں  پریس کانفرنس  سے   کرتے ہوئے  ترک سفیر احسان مصطفی یردکل  نے  بتایا کہ بغاوت کے دوران ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی، نیشنل انٹیلیجنس دفتر، پولیس ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا، ترکی میں بغاوت کے 5 سال بعد بھی جمہوری جدوجہد جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ  ترکی میں ناکام فوجی بغاوت میں سوال اٹھا کہ کیا مغرب جمہوریت کے ساتھ ہے یا دہشتگردوں کے ساتھ؟ امریکا آج بھی ریاست پینسلوینیا میں موجود دہشتگرد فتح اللہ گولن کو تحفظ فراہم کر رہا ہے، امریکا نے مطالبے کے باوجود فتح اللہ گولن کو ترکی کے سپرد نہیں کیا ہے ۔

ترک سفیر احسان مصطفی یردکل  نے کہا کہ  پاکستان ناکام فوجی بغاوت میں ترکی کے ساتھ رہا،پاکستان نے ترکی کی کلیدی مدد کی اور  مکمل تعاون فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے فتح اللہ گولن تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا، فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کے خلاف پاکستان کے تمام اداروں نے ہر ممکن کاوشیں کیں۔انہوں نے  کہا کہ  پاکستان نے فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کے زیر انتظام سکولز کو 2018ء میں ترک معارف فاؤنڈیشن کے سپرد کیا ، پاکستان کی جانب سے ترکی کے ساتھ اظہار یکجہتی پر شکر گزار ہیں

انہوں نے کہا کہ  فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم تاحال 160 ممالک میں موجود ہے،او آئی سی اور ایشیائی پارلیمانی اسمبلی نے فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کے خلاف قرارداد منظور کی ہے ۔

ترک سفیر احسان مصطفی یردکل نے کہا کہ  افغانستان اور ترکی کے مابین تاریخی، ثقافتی اور مذہبی بردرانہ تعلقات ہیں، ترکی ، افغانستان کو مستحکم، خوشحال اور ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ افغانستان ایشیاء کا دل ہے، جتنا خوشحال، پرامن ہو گا، خطہ بھی ترقی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ  ترکی کا افغانستان میں کردار افغان عوام کی بہتری کے لیے ہے، کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ۔ افغانستان میں کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی نیٹو کے فریم ورک میں ترکی کے پاس رہی،کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی بارے ترکی اور امریکا کے مابین مذاکرات جاری ہیں، حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔

ترک سفیر احسان مصطفی یردکل  نے کہا کہ  کابل کا ہوائی اڈہ کھلا رہے گا تو افغان عوام، حکومت اور طالبان سب کے لیے مفید ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ  پاکستان اور ترکی، افغانستان اور مشترکہ مفادات پر قریبی مشاورتی عمل رکھتے ہیں ۔پاکستان نے پرامن، مستحکم افغانستان کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔

احسان مصطفی یردکل  نے  مزید کہا کہ پاکستان اور ترکی کے مابین فوجی تعلقات مضبوط  ہیں   اور  پاکستان، ترکی کا کلیدی شراکت دار ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں 15 جولائی کی صبح فاطمہ جناح پارک میں شجرکاری کی جائے گی،اسی دن شام کو سفارتخانہ میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔