رسائی نہ ہونے کے باعث فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ سکیم ٹھلیاں بند کردی گئی ہے، سیکرٹری ہائوسنگ ڈاکٹر عمران زیب کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

39

اسلام آباد،12جولائی  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ و تعمیرات کو بتایا گیاہے کہ رسائی نہ ہونے کے باعث فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ سکیم ٹھلیاں بند کردی گئی ہے اور اب اس کے لیے نیا پروسیس کیاجائے گا جبکہ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ وزارت ہائوسنگ کے مختلف منصوبوں میں تاخیرکی وجوہات ،سرکاری مکانات کو غیر قانونی قابضین سے واگذار کرانے اور سرکاری ملازمین سے جمع شدہ رقوم کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں۔ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس اور اس کے ماتحت اداروں کے کام کے طریقہ کار، بجٹ، ملازمین کی تفصیلات، وزارت کی طرف سے شروع کردہ حکومت کے مختلف اسکیموں، وزارت کے ماتحت سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ،سرکاری گھروں پر غیر قانونی قبضہ جات، فیڈرل لاجز و چنبہ ہاوس سمیت  ادارے کے ماتحت دیگراداروں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری ہاوسنگ ڈاکٹر عمران زیب نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس  1973کے بزنس رولز کے تحت کام کر رہی ہے اور وفاقی سرکاری عمارتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے۔ حکومت کی طرف سے وزارت کو دیئے گئے سرکاری گھروں و دفاتر کے کرایے بھی وزارت وصول کرتی ہے۔ فیڈرل لاجز، چنبہ ہاوس و دیگر کی مینجمنٹ بھی وزارت کے پاس ہے اور وفاق کی ملک بھر میں جہاں بھی پراپرٹی اس وزارت کو دی گئی ہے اس کی ذمہ دار ہے۔ کراچی میں کو آپریٹو ہاوسنگ سیکمیں بھی وزارت کے پاس ہیں اور ملک کی نیشنل پالیسی بھی بنانا وزارت کے ذمہ ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت کے دو ایگزیکٹو ادارے پی ڈبلیو ڈی اور اسٹیٹ آفس مینجمنٹ ہے جبکہ چار آزاد باڈیز بھی وزارت کے ماتحت ہیں جن میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی، پاکستان ہاوسنگ اتھارٹی فائونڈیشن، این ایل سی اور پاکستان انوائرمنٹل پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر شامل ہیں۔ پی ای پی اے سی دو ماہ پہلے وزارت کے ماتحت لائی گئی ہے اور این ایل سی بھی وزارت کے ماتحت ہے ان میں سے ایک ختم اور دوسری کو ضم کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مین وزارت میں کل منظور شدہ آسامیوں کی تعداد 188ہے جن میں سے 37 آسامیاں خالی پڑی ہیں،این او سی مل چکا ہے جلد تقرری کر لی جائے گی۔ پالیسی اینڈ پلاننگ ونگ میں کل آسامیوں کی تعداد 44ہے جن میں 14آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے 7ارب روپے کے لوگوں کو قرضے دیئے گئے ہیں ۔جون 2021تک مجموعی طور پر 15039گھروں کی فنانسنگ کی گئی جبکہ جون 2023تک کے لیے 44000رہائشی یونٹس کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا گیاہے۔کمیٹی کوبتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی میں 24.5ارب کے 115منصوبہ جات ہیں جن میں سے 61جون 2022میں مکمل ہو جائیں گے۔ ایس ڈی جیز کی زیادہ تر اسکیمیں سندھ اور بلوچستان میں ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹھیلیاں ہاوسنگ اسکیم رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کل بند کر دی گئی ہے۔ ایف 12اور جی 12کے حوالے سے کابینہ نے ایف جی ای ایچ اے کو دینے کا فیصلہ کیا ہے کہ اس پر کام کیا جا سکے یہ بہت مشکل کام ہے اس کا ایوارڈ ہو چکا ہے۔ سینیٹر بہر ہ مند خان تنگی نے کہا کہ ورکنگ پیپر کل شام کو فراہم کئے گئے ہیں پڑھنے کے لئے کوئی وقت نہیں بچا آئندہ اجلاس میں ورکنگ پیپرز قانون کے مطابق فراہم کئے جائیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان نے کہا کہ انہیں بھی ورکنگ پیپر نہیں دیئے گئے تھے اور نہ ہی بریف کیا گیا تھا ہم سب نے مل کر عوام کے مسائل کو حل کرنا ہے اس کیلئے ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراکین کمیٹی اور وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس کے ساتھ مل کر سرکاری ملازمین کے گھروں و دیگر مسائل کو حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے جتنے منصوبہ جات تاخیر کا شکار ہیں ان کی وجوہات اور تفصیل بتائی جائے اور کتنے سرکاری مکانات پر غیر قانونی قبضے ہیں آگاہ کیا جائے۔ پی ڈبلیو ڈی کے تمام منصوبہ جات کی مکمل تفصیلات، تکمیلی مراحل اور تاخیر کی وجہ سے ریٹ میں اضافے کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں ایک منصوبہ 8کروڑ میں دیا گیا مگر تاخیر کی وجہ سے 20کروڑ میں مکمل ہوا اس کی تفصیل دی جائے اور کتنے ملوث افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی ہے تفصیلات فراہم کی جائیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ لاہور میں 2007میں ایک وفاقی کالونی کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ اسٹرکچر اور عمارت تیار ہے مگر مزید کام روک دیا گیا ہے انتہائی اہم جگہ پر یہ قائم ہے اس کی تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم سب مل کر حکومت کے ان تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کرانے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے تا کہ تاخیر کی وجہ سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان نہ ہو لوگوں کو میرٹ پر سرکاری گھر فراہم کرنے میں بھی مدددیں گے اور غیر قانونی قبضہ گروپ کو بھگا کر اصل حق داروں کو سرکاری مکان فراہم کئے جائیں گے اور وزارت کے شروع کر دہ منصوبہ جات کا قائمہ کمیٹی معائنہ کر کے جائزہ لے گی تاکہ بروقت مکمل کرایا جا سکے۔کمیٹی کےاجلاس میں سینیٹرز سیف اللہ ابڑو، سیف اللہ سرور خان نیازی، کامل علی آغا، خالدہ عطیب، بہر ہ مند خان تنگی، افنان اللہ خان، مولانا عبدالغفور حیدری، فدا محمد، سعید احمد ہاشمی اور محمد قاسم کے علاوہ سیکرٹری وزارت ہاوسنگ ڈاکٹر عمران زیب، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت ہاوسنگ ظہور احمد اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔