وزیر اعظم عمران خان ازبک صدر شوکت مرزیوف کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے کل ازبکستان روانہ ہوں گے

48

اسلام آباد، 14 جولائی   (اے پی پی ): وزیر اعظم عمران خان ازبک صدر شوکت مرزیوف کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کو ازبکستان روانہ ہو نگے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت  کابینہ کے دیگر ارکان پر مشتمل اعلی سطح کا وفد بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہے۔اس موقع پر پاکستان کے اہم کاروباری افراد پر مشتمل گروپ بھی ازبکستان کا دورے کریگا۔وزیر اعظم عمران خان اور ازبک صدر شوکت مرزیوف کے درمیان ملاقات کے دوران تجارتی و اقتصادی تعاون اور رابطوں اور علاقائی و بین الاقوامی دلچسپی کے معاملات سمیت دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کو زیر بحث لایا جائیگا۔ اس موقع پر مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط بھی متوقع ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان پہلے پاک۔ازبک بزنس فورم سے خطاب  کرینگے جبکہ فورم میں اہم پاکستانی و ازبک کاروباری افراد شرکت کرینگے۔ازبک صدر کی دعوت پر وزیر اعظم عمران خان ’’وسطی اور جنوبی ایشیاءرابطوں‘‘ کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کرینگے۔کانفرنس میں وسطی و جنوبی ایشیا اور دیگر اہم ممالک کے وزرا،بین الاقوامی تنظیموں،مالیاتی اداروں،تھنک ٹینکس کے نمائندے اور سکالرز شریک ہونگے۔وزیر اعظم دورے کے دوران ‘‘ نیا پاکستان’’ کے اپنے وژن،علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی میں پاکستان کا مثبت کردار اور جیو۔پالیٹکس سے جیو۔ اکانومی کی طرف منتقلی کو اجاگر کرینگے۔وزیر اعظم کے دورے سے ایک روز قبل بدھ کو تاشقند میں مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کا چھٹا سیشن اور جوائنٹ بزنس کونسل کا افتتاحی اجلاس بھی منعقد ہوا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات استوار ہیں جو باہمی احترام اور مشترکہ ثقافت و ہم آہنگ روایات سے عبارت ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات میں خاطرخواہ بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ قبل ازیں دونوں رہنماوں کی بیجنگ میں ’’بی آر آئی’’ فورم اور بشکیک میں منعقدہ‘‘ ایس سی او’’ سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی دو مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے 14 اپریل 2021 کو ورچوئل دوطرفہ سربراہی اجلاس بھی منعقد کیاتھا۔ پاکستان نے ’’وژن سینٹرل ایشیا‘‘ پالیسی کے تحت وسط ایشیاءکے ساتھ اپنے روابط کو گہرا کیا ہے جس میں سیاسی، تجارتی وسرمایہ کاری، توانائی اور رابطوں کی استواری، سلامتی ودفاع اور عوامی رابطوں کے پانچ کلیدی نکات پر توجہ مرکوزکی گئی ہے۔