پائیدار معاشی استحکام کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے ، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤدکا فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس میں خطاب

33

فیصل آباد۔10جولائی  (اے پی پی):پائیدار معاشی استحکام کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں عید کے فوراً بعد وزیر عظم عمران خان اور وفاقی وزیر خزانہ سے برآمد کنندگان کی الگ الگ ملاقاتیں ہوں گی۔ یہ بات وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے ہفتہ کو فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری میں تاجروں، صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کی وجہ سے نہ صرف گرتی ہوئی معیشت کو سہارا ملا بلکہ اس وقت تمام میکرواکنامک اعشارئیے بھی مثبت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں معاشی استحکام کو پائیدار بنانے کیلئے کوششیں کرنے کے ساتھ ساتھ مائیکرو اکنامک اعشاریوں کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔ برآمد کنندگان کی طرف سے ہر وقت مزید مانگنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں عبدالرزا ق داؤد نے کہا کہ مارکیٹ میں ہر وقت اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے اور ان کے مطابق ہمیں اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی میں بھی تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق نہیں چلتا وہ ختم ہو جاتا ہے اس لئے ہمیں ہمہ وقت متحرک اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری مجموعی برآمدات 31ارب ڈالر ہیں جن میں سروسز کا حصہ صرف6 ارب ڈالر تھا۔ انہوں نے کہا کہ 25ارب کی بقیہ برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل کا تھا۔ انہوں نے ٹیرف ریشنلائزیشن کے حوالے سے بتایا کہ خام کپاس، اکریلک، وسکوس، نائلون، اون، فلاکس اور ہمپ پر ڈیوٹی صفر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے نتیجہ میں ہمارے برآمد کنندگان کو برآمدات بڑھانے کے نئے مواقع ملیں گے جبکہ انھیں نئی مصنوعات کیلئے نئی اور غیر روایتی منڈیاں بھی تلاش کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بطور مشیر تجارت اُن کی کوشش ہے کہ ٹیرف ریشنلائزیشن کی یہ سہولت نہ صرف برقرار رہے بلکہ اس میں آئندہ سالوں میں مزید اضافہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان برآمدات کیلئے 40فیصد خام مال درآمد کرتا ہے اور ان پر بھی ڈیوٹی صفر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر انجینئرنگ، دوا اور جوتے سازی کی صنعت کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے تمام خام مال پر کوئی ڈیوٹی نہیں۔ ان اقدامات کے نتیجہ میں ایک نیا دور شروع ہو گا جس میں ترقی کرنے کیلئے ہمارے برآمد کنندگان کو نئی مارکیٹیں تلاش کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جس کے تحت آئندہ حکومتیں ڈیوٹیوں کے ڈھانچے میں تبدیلی نہ کر سکیں۔ ٹیکسٹائل پالیسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ابھی تک منظور نہیں ہوئی جس کی دو اہم وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی میں برآمد کنندگان کیلئے توانائی کے نرخوں کو منجمد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس لئے یہ پالیسی وزارت توانائی کو بھیجی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم برآمدات بڑھانے کیلئے بین الاقوامی طور پر بجلی، گیس اور پٹرول کے مسابقتی نرخ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان سے ملاقات کے دوران آئندہ مالی سال کیلئے برآمدی ہدف کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی اس سلسلہ میں ہدف مقرر کر سکتے ہیں مگر وہ سمجھتے ہیں کہ باہمی مشاورت سے ایسا ہدف مقرر کیا جائے جس کو حاصل بھی کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل ہماری ٹیکسٹائل کی برآمدات 13ارب ڈالر تھیں جو پچھلے سال آپ لوگوں کی کوششوں سے بڑھ کر 15.5ارب ڈالر ہو گئیں۔ آپ ہمیں 30جون 2022ء کیلئے باہمی مشاورت سے نئے ہدف کا تعین کرنا ہے۔ انہوں نے ویلیو ایڈیشن کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ اگرچہ ویلیو ایڈیشن کا گراف اوپر کو جا رہا ہے مگر یہ تسلی بخش نہیں اس میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون ملک ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی کیلئے یارن کی برآمد پر کوئی رعایت نہیں ملے گی۔ اس اقدام سے ویلیو ایڈیشن میں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ وزیر خزانہ سے بھی ملاقات ہو گی جس میں یارن کے مسئلے کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں موبائل فون تیار کرنے کا کام شروع ہو گیا ہے اور آئندہ سال موبائل فون کی برآمد بھی شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ریفریجریٹرز، واشنگ مشینز اور دو اور تین پہیوں والی آٹو موبائل گاڑیوں کی برآمد بھی شروع کر رہا ہے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر انجینئر حافظ احتشام جاوید نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ 1600نئی ٹیرف لائنوں پر ڈیوٹی ختم کرنے سے برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ کوروناکی وجہ سے جب دنیا بھر میں قرض کے حوالے سے جی ڈی پی کی شرح بڑھ رہی تھی تاہم پاکستان میں حکومت کی مثبت پالیسیوں کی وجہ سے اس شرح میں کمی ہوئی۔ اسی طرح ہماری شرح نمو بھی 3.9فیصد رہی۔ ۔ سوال و جواب کی نشست میں سینئر نائب صدر چوہدری طلعت محمود، سید ضیاء علمدار حسین، چوہدری محمد نواز، شبیر حسین چاولہ، میاں محمد لطیف، وحید خالق رامے، شکیل انصاری، میاں محمد فاضل، انجینئر احمد حسن، اشفاق اشرف، رانا عبدالغفور، ثناء اللہ نیازی، میاں ذوالفقار نے بھی حصہ لیا جبکہ نائب صدر ایوب اسلم منج نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں صدر انجینئر حافظ احتشام جاوید نے سابق صدور کے ہمراہ عبدالرزا ق داؤد کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر ٹیکسٹائل کمشنر کنور عثمان اور ظفر اقبال سرور بھی موجود تھے۔