اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات شوکت ترین نے کہاہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بورڈکی طرف سے تمام ممالک کیلئے 650 ارب ڈالرکے پیکج میں سے پاکستان کو 2.77 ارب ڈالرکی معاونت ملے گی جو 23اگست کو سٹیٹ بینک کے اکاونٹ میں منتقل ہوجائیں گے، معاونت کیلئے کسی قسم کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی، معاشی استحکام اورپائیداریت پاکستان اورآئی ایم ایف دونوں کے اہداف ہیں،حکومت مہنگائی کے خاتمہ کیلئے جامع اقدامات کررہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے بھی اس حوالہ سے ہدایات جاری کی ہے، حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں مہنگائی میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ جمعرات کویہاں وزارت خزانہ میں معاون خصوصی برائے محصولات ڈاکٹروقار مسعود کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بورڈ نے تمام ممالک کیلئے 650 ارب ڈالرکے جس پیکج کا اعلان کیا ہے اس میں سے پاکستان کو4.3 فیصد کے تناسب سے 2.77 ارب ڈالرکی معاونت ملے گی جو 23اگست کو سٹیٹ بینک کے اکاونٹ میں منتقل ہوجائیں گے، اس معاونت کیلئے کسی قسم کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی ہے اوراس کے اخراجات بھی صفر ہے۔اس معاونت سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں مزید اضافہ ہوگاجو خوش آئند امر ہے،انہوں نے کہاکہ پاکستان سمیت تمام ممالک کیلئے معاونت پر ہم آئی ایم ایف کے بورڈ کے شکرگزارہیں، سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس معاونت کیسی قسم کی شرائط نہیں ہیں۔وزیرخزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف کی طرف سے ملنے والی نئی معاونت کا بہترین استعمال کیا جائیگا، معیشت میں کواستحکام آیا ہے اورپائیداریت میں پیش رفت ہوئی ہے اس معاونت کوانہی مقاصد کیلئے استعمال میں لایا جائیگا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت نے وفاقی بجٹ میں جن اقدامات کا اعلان کیاتھا اس کے بہترنتائج سامنے آئے ہیں، مالی سال کے پہلے ماہ میں محصولات میں بڑھوتری ہوئی ہے جو معیشت کی ترقی کی عکاسی کررہی ہے۔ پاکستان اورآئی ایم ایف کے پروگرام سے متعلق مختلف سوالوں کے جواب میں وزیرخزانہ نے کہاکہ معاشی استحکام اورپائیداریت پاکستان اورآئی ایم ایف دونوں کے اہداف ہیں تاہم ان اہداف کے حصول کے طریقہ کارمیں فرق ہے،آئی ایم ایف نے بجلی کے نرخ بڑھانے اورپرسنل انکم ٹیکس میں اضافہ کیلئے کہاتھا جبکہ ہماراموقف یہ تھا ٹیرف بڑھانے سے نہ صرف عام آدمی بلکہ صنعتوں پرپربھی اثرات مرتب ہوں گے علاوہ ازیں پاکستان میں محصولات کے شعبہ میں پرسنل انکم ٹیکس کاحصہ بہت کم ہے۔پاکستان ٹیکس کی بنیادمیں وسعت اوربجلی کے شعبہ میں اصلاحات سے یہ اہداف حاصل کرسکتاہے۔حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ کیاہے جس کے تحت 850 ارب روپے کی ادائیگی موخرہوگئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ریٹیل کے شعبہ میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہورہاہے، پاکستان نے آئی ایم ایف سے تین ماہ کا وقت مانگا تھا اوراس میں پہلا مہینہ مکمل ہواہے، حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں اس کے بہترنتایج کااندازہ مالی سال کے پہلے ماہ میں محصولات میں ہدف سے 24 فیصد زیادہ اضافہ سے بھی ہورہاہے۔اس کے ساتھ بجلی کے ٹیرف کوبھی معقول بنانے پرکام جاری ہے،پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان ڈائیلاگ کاسلسلہ چل رہاہے، کامیاب پاکستان پروگرام کے حوالہ سے بھی آئی ایم ایف کوآگاہ کیا گیاہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ کامیاب پاکستان ملک کے غریب اورپسماندہ طبقات کیلئے شروع کیا گیاہے، ماضی میں اس طرح کے کسی بڑے پروگرام کی مثال نہیں ملتی، وزیراعظم عمران خان اس پروگرام کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، وزیراعظم اورمیں خود اس پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اوراسے ہرصورت کامیاب بنائیں گے۔ملک میں مہنگائی سے متعلق مختلف سوالوں کے جواب میں وزیرخزانہ نے کہاکہ اس وقت بنیادی افراط زر6.95 فیصد کی سطح پرہے، اشیائے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے تاہم بین الاقوامی مارکیٹ میں اشیائے خوراک کی قیمتیں بڑھیں ہیں، پاکستان مختلف قسم کی غذائی اشیا چونکہ درآمدکررہاہے اسلئے قیمتوں کے یہ اثرات مقامی منڈیوں پربھی پڑرہے ہیں، حکومت مہنگائی کے خاتمہ کیلئے جامع اقدامات کررہی ہے، وزیراعظم عمران خان نے بھی اس حوالہ سے ہدایات جاری کی ہے، حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں مہنگائی میں بتدریج کمی آرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی پرقابوپانے کیلئے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ان میں اہم غذائی اشیا کے سٹریٹجک ذخائر اورکولڈ سٹوریجز و وئیر ہاوسز کاقیام شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مڈل مین کا خاتمہ کیا جارہاہے جبکہ کارٹیلائزیشن کے خاتمہ کیلئے بھی سخت اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔فیٹف سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس وقت اگرچہ جیوپولیٹکل صورتحال ہمارے حق میں نہیں ہے مگر اس کے باوجود پاکستان نیک نیتی اورخلوص نیت کے ساتھ اقدامات کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بھارت اوردیگرممالک کے برعکس پاکستان نے پیٹرول کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ کے مطابق اضافہ نہیں کیا ہے بلکہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے استعمال کےذریعہ زیادہ تربوجھ حکومت نے خودبرداشت کیا۔رواں سال پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 600 ارب کے قریب ہیں تاہم یہ ہدف شا ید حاصل نہ کیا جاسکے کیونکہ حکومت صارفین کوزیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے پریقین رکھتی ہے۔











