لاہور،31 اگست (اے پی پی): پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (پیسی) کی گورننگ باڈی کا 152واں اجلاس پیسی ہیڈ آفس میں ہوا، اس اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر لیبر عنصر مجید خان نے بطور چیئرمین گورننگ باڈی کی۔اجلاس میں کمشنر پیسی بلال حیدر سمیت گورننگ باڈی کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔
کمشنر پیسی نے ایجنڈا آئیٹمز سے متعلق تفصیلات سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سیلف اسسمنٹ اپنانے والی فیکرٹریوں کی بذریعہ بیلٹنگ انسپیکشن کی جائے گی، انسپیکشن کیلئے منتخب فیکٹریوں کو دو سال تک آئندہ بیلٹنگ میں شامل نہیں کیا جائے گا، جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے پر فیکرٹریوں کی انسپیکشن مزید سخت کی جائے گی، 82 ہزار سے زائد ورکرز کو گزشتہ ایک ماہ میں رجسٹر کیا۔اجلاس میں پیسی ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ اور پیسی کیش بینیفٹ موبائل ایپ کا دائرہ کار پورے صوبے تک بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ سوشل سیکیورٹی کے تمام اسپتالوں میں ہاسپیٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم نافذ کرنےاور سوشل سیکیورٹی اسپتالوں کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز سے منسلک کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
صوبائی وزیر لیبر عنصر مجید خان نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 3 ماہ میں رجسٹرڈ ورکرز کی تعداد میں 3 لاکھ تک اضافہ کریں گے، رواں سال دسمبر میں مزدور کارڈز دیئے جائیں گے اور صرف سوشل سیکیورٹی سے رجسٹرڈ مزدوروں کو بنک آکاؤنٹ سے منسلک مزدور کارڈ جاری کیا جائے گا، مزدور کارڈ کے ذریعے 11 اقسام کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کارڈ کے ذریعے مزدور رعایتی نرخوں پر خریداری کر سکیں گے، کارڈ سے مزدور سوشل سیکیورٹی اسپتالوں میں علاج کی سہولیات حاصل کریں گے، سوشل سیکیورٹی اور ویلفیئر گرانٹس بھی مزدور کارڈ سے منسلک بنک آکاونٹ کے ذریعے ہی فراہم کی جائیں گی، مزدوروں کو اشیاء ضروریہ کی خریداری پر مزدور کارڈ کے ذریعے سبسڈی دی جائے گی، کم از کم اجرت کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے بنک اکاؤنٹ کے ذریعے تنخواہ کی ادائیگی کا قانون لا رہے ہیں، پہلی بار 10لاکھ سے زائد مزدوروں کا بنک اکاؤنٹ کھولا جائے گا۔
انہوں نے مزدور کارڈ کے جلد از جلد اجراء کے لئے کمشنر پیسی کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 3 ماہ میں 11 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ورکرز کو سوشل سیکیورٹی کارڈز مہیا کرنے کا ہدف ہے، 2018 میں صرف 3 لاکھ 80 ہزار مزدوروں کے پاس سوشل سیکیورٹی کارڈ تھے لیکن اب 6 لاکھ 34 ہزار مزدوروں کے پاس سوشل سیکیورٹی کارڈز ہیں، 2 سال میں 65 کروڑ روپے کی لاگت سے تمام اسپتالوں میں نافذ کیا جا رہا ہے، سوشل سیکیورٹی کنٹریبیوشن کی حوالے سے ایچ ایم آئی ایس تنخواہ کی بالائی حد 22 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار کر دی گئی، فیکٹری مالک پر 20 ہزار سے 25 ہزار تنخواہ لینے والے ورکرز کو رجسٹر کروانا لازم ہوگا۔