کراچی،10اگست (اے پی پی):وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی میں وفاقی حکومت کے منصوبوں کی جلد تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے، کراچی کے شہریوں کو صاف اور وافر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے یہ ہدایت منگل کو یہاں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے حوالے سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔وزیرِ اعظم نے تمام متعلقین کو جاری منصوبوں کو ٹائم لائنز کے تحت مکمل کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ کراچی کی عوام کو ان کے ثمرات میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل اور اعلان شدہ منصوبوں کا اجرا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اجلاس میں شریک وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ اس وقت وزیرِاعظم کی تمام تر توجہ کراچی شہر پر ہے کیونکہ ملک کا معاشی حب ہونے کے ناطے اس شہر کی خاص اہمیت ہے۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم کو کراچی کے تین بڑے نالوں (محمودآباد، گجر اور اورنگی)، ملیر اور لیاری کے دریاؤں اور نالوں کے اطراف سڑک کی تعمیر، سیوریج سسٹم اور یوٹیلیٹیز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ چئیرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ نالوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور تجاوزات ہٹانے کا کام بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ محمودآباد اور اورنگی نالے پر پیشرفت بالترتیب سو فیصد اور 98فیصد ہے جبکہ گجر نالے پر سے تجاوزات ہٹانے میں 89فیصد پیشرفت ہو چکی ہے، اورنگی اور محمود آباد نالوں کی صفائی میں پیش رفت کا تناسب 97اور 90فیصد ہے جبکہ گجر نالے پر پیشرفت 79فیصد ہے، محمود آباد نالے پر آر سی سی دیوار کی تعمیر کا کام تکمیل کے نزدیک ہے، دوسرے نالوں میں بھی یہ کام تیزی پکڑے گا۔
وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بقیہ سول ورکس جون 2022تک مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیراعظم کو گرین لائن اور اورنج لائن بی آر منصوبے کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ گرین لائن اس سال اکتوبر سے فعال ہو جائے گی، وسط ستمبر 2021تک چین سے 80بسیں پہنچ جائیں گی۔ اسی طرح حکومت سندھ کی درخواست پر ایس آئی ڈی سی ایل اورنج لائن کے لئے بیس بسیں منگوا رہی ہے جو اس سال دسمبر تک پہنچ جائیں گی۔ کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کے فور پر چئیرمین واپڈا کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت کراچی 1200کیوسک پانی لے رہا ہے جس میں حب ڈیم سے 100ایم جی ڈی (ملین گیلن یومیہ) شامل ہے۔ کراچی کے عوام کو پانی کی فراہمی کے حوالے سے شدید مشکلات درپیش ہیں ، پانی کی اس شدید قلت کو پورا کرنے کے لئے حکومت سندھ کی جانب سے کے فور کا منصوبہ تشکیل دیا گیا ، اس پر حکومت سندھ کام کر رہی تھی جبکہ اس منصوبے کے لئے مالی وسائل سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کئے جا رہے تھےلیکن یہ منصوبہ ایک دہائی سے تعطل کا شکار رہا، اب وفاقی حکومت اس منصوبے کو مکمل کر رہی ہے۔
وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ 85کلومیٹر کا سروے آئی ایل ایف کے سٹاف اور کنسلٹنٹس کی جانب سے مکمل کیا گیا، منصوبے کا حتمی ڈیزائن اکتوبر2021تک مکمل کر لیا جائے گا، منصوبہ اکتوبر2023تک مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیر اعظم کو فریٹ کاریڈور کیماڑی تا پپری مارشلنگ یارڈ اور ماڈرن کراچی سرکولر ریلوے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ 50کلومیٹر طویل کراچی پورٹ تا پپری فریٹ کاریڈورمیں کوریڈور کی تعمیر، سڑک کو دورویہ کیا جانا اور اپ گریڈیشن شامل ہے،ملک کے مختلف علاقوں میں جانے والے 40فیصد کارگو ٹرانسپورٹ اس کوریڈور کے ذریعے ہوگی، اس منصوبے کی فزیبلٹی مکمل کر لی گئی ہے اور اس منصوبے کو اکتوبر 2021میں مارکیٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ کے سی آر منصوبے میں 43کلومیٹر ورلڈ کلاس ماس ٹرانزٹ سسٹم اور ماحول دوست الیکٹرک ٹرین شامل ہیں، منصوبے کی فزیبلٹی مکمل کر لی گئی ہے، جیسے ہی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کی جانب سے ٹرانزیکشن کا خاکہ اور بڈنگ کی دستاویزات منظور کر دی جائیں گی اس منصوبے کو نومبر 2021تک مارکیٹ میں لایا جائے گا۔
اجلاس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی، وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی زیدی، وفاقی وزیرِ برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔











