سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس

3

اسلام آباد، 3 اگست (اے پی پی) :سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں بارڈر سیکیورٹی میکنزم، اسمگلنگ نیٹ ورکس کی جانچ، انسداد منشیات کے اقدامات، ایف بی آر و کسٹمز کے ضبط شدہ اثاثوں اور تمباکو کے شعبے میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

کارروائی کے دوران کمیٹی نے 20 جولائی 2026 کو ہونے والے اپنے سابقہ اجلاس کے بعد میڈیا پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور دیگر ارکان کی کردار کشی اور غیر مستند خبروں کی اشاعت کی شدید مذمت کی۔ کمیٹی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ممبر ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ ہینڈ آؤٹ کا ذاتی طور پر جائزہ لیں اور سینیٹ ممبران کے خلاف اس بدنیتی پر مبنی مہم کے ذمہ داروں کی نشاندہی کریں۔ مزید برآں، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت کی گئی کہ وہ ٹارگٹڈ مہم چلانے والے ٹی وی چینلز کی غیر جانبدارانہ و مکمل انکوائری کر کے تفصیلی رپورٹ کمیٹی میں پیش کرے۔

11 ٹرکوں کی مخصوص ضبطی پر بات کرتے ہوئے کمیٹی نے دائرہ اختیار پر سنگین سوالات اٹھائے اور نشاندہی کی کہ موٹروے آپریشنز کسٹمز کے براہ راست دائرہ اختیار کے بجائے بنیادی طور پر ان لینڈ ریونیو میں آتے ہیں۔ کمیٹی نے ضبط شدہ مالیت سے متعلق سامنے آنے والے متضاد اعدادوشمار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ٹرانسپورٹ اور اسٹیل کمپنی کے مالکان آج شام تک مکمل رپورٹ پیش کریں۔

مزید برآں، کمیٹی نے کسٹمز حکام کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھایا اور نوٹ کیا کہ 11 ٹرک ڈرائیوروں کو چھ دن کی تاخیر کے بعد گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے ناقص ایف آئی آر کا مسودہ تیار کرنے کے ذمہ دار انسپکٹر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کے لیے طلب کر لیا۔ ڈپٹی کلکٹر کسٹمز کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ بتائیں کہ موقع پر جن سیاسی شخصیات کے نام سامنے آئے تھے، انہیں سرکاری رپورٹنگ سے دانستہ طور پر کیوں خارج کیا گیا۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل موٹروے پولیس نے واضح کیا کہ موٹروے پولیس اور کسٹمز کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو)کا مقصد صرف گاڑیوں کو روکنے میں آپریشنل مدد فراہم کرنا ہے۔

ذیلی کمیٹی نے کھپت کے سرٹیفکیٹس کے اجرا پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس بات پر صدمے کا اظہار کیا کہ سرکاری ڈیجیٹل پالیسیوں کے باوجود دستی سرٹیفکیٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔ کنوینر نے چیف کلکٹر سے سوال کیا کہ آیا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے پہلے جگہ کا فزیکل دورہ کیا جاتا ہے؟ جس سے یہ ظاہر ہوا کہ ٹیمیں باقاعدگی سے فزیکل ویری فکیشن وزٹ نہیں کرتی اور صوابدیدی اختیارات پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

کمیٹی نے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں درآمدات سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات اور اکاؤنٹنگ کو مکمل طور پر غیر تسلی بخش اور نامکمل قرار دیتے ہوئے مقامی منڈیوں میں مصنوعات کی فروخت کی جانچ کا حکم دیا۔ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے کسٹمز پوسٹس، ڈرائی پورٹس اور ریونیو باڈیز میں بدعنوانی اور سسٹمیٹک لیکس کو بے نقاب کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایف آئی اے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنی غیر جانبدارانہ انکوائریوں کو جلد حتمی شکل دے کر مکمل تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں۔