افغانستان چالیس سال بعد استحکام کی طرف بڑھے گا، اگر نہیں تو افرتفری، انسانی بحران، پناہ گزینوں کے مسائل سامنے آسکتے ہیں؛ وزیراعظم عمران خان

5

دوشنبے،17ستمبر  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے، اب وہ استحکام کی جانب بڑھے گا یا افراتفری، انسانی بحران اور پناہ گزینوں کا ایسا بڑا مسئلہ پیدا ہوگا جس سے سبھی ہمسائے متاثر ہوں گے، دہشتگردی کا خطرہ بھی موجود ہے، طالبان کی کامیابی کے بعد پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کر دی گئی، افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت ایک جامع حکومت کی تشکیل ہے۔

 ان خیالات کا اظہار وزیرِاعظم عمران خان نے جمعہ کو دوشنبے میں آر ٹی (عریبک) چینل کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہ اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ اس میں افغانستان کے تقریباً تمام ہمسایہ ملک شریک ہیں، پورے خطے کیلئے اس وقت افغانستان سب سے اہم موضوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے جو یا تو چالیس سال کی جنگی صورتحال کے بعد استحکام کی طرف بڑھے گا یا پھر یہاں سے غلط سمت میں چلا گیا تو اس سے افراتفری، انسانی بحران، پناہ گزینوں کا ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، جو ایک بڑے مسئلے کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس سے تمام ہمسایہ ممالک متاثر ہونگے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نکتہِ نظر سے افغان سرزمین سے دہشت گردی کا بھی خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے سے ہی تین دہشتگرد گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کراتے رہے ہیں۔