اسلام آباد،29ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ العربیہ اور رمضان شوگر ملز منظم منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں ، 25 ارب روپے کی کرپشن کا معاملہ ایف آئی میں ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب بھی موجود تھے۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ جب اس پر تحقیقات شروع ہوئیں تو معلوم ہوا کہ العربیہ اور رمضان شوگر ملیں ایک منظم منی لانڈرنگ نیٹ ورک چلا رہی تھیں۔ 2008ءسے 2018ءتک دس سالوں میں 57 مشتبہ اکائونٹس سے 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہوئی۔ ان اکائونٹس میں سے اکثریت ان شوگر ملوں میں کام کرنے والے ملازمین کے ناموں پر بنائے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ 2016-17ءمیں العربیہ مل کے نائب قاصد ملک مقصود کے نام سے بنائے گئے اکائونٹ میں 3.7 ارب روپے آئے، فرنیچر شاپ کے مالک حاجی نعیم کے نام سے بنائے گئے اکائونٹ میں 2.8 ارب روپے آئے، یہ اکائونٹ 2008ءاور 2010ءکے درمیان چلتا رہا۔ مشتاق چینی والا کے ڈرائیور محمد وارث کے نام پر وارث انٹر پرائز کمپنی بنائی گئی، اس کے اکائونٹ میں 2.5 ارب روپے آئے، اسی طرح مل میں کام کرنے والے نائب قاصد محمد اسلم کے اکائونٹ میں 1.75 ارب روپے، اظہر عباس کے اکائونٹ میں 1.67 ارب روپے، رمضان شوگر مل کے کلرک غلام شبیر اور خضر حیات کے اکائونٹ میں بالترتیب 1.57 ارب روپے اور 1.42 ارب روپے، قیصر عباس نامی شخص کے اکائونٹ میں 1.37 ارب روپے، رمضان شوگر مل کے نائب قاصد گلزار خان کے اکائونٹ میں 28 ارب روپے، سید محمد اکبر کے اکائونٹ میں 1.25 ارب روپے کی رقم آئی۔ یہ اکائونٹ وحدت روڈ لاہور میں مشتاق چینی والا کے دفتر سے بنایا گیا جس میں مشتبہ آئی ڈی استعمال کی گئی۔ اس کے علاوہ اقرار حسین کے اکائونٹ میں 1.18 ارب روپے، انوار کے اکائونٹ میں 880 ملین روپے، رمضان شوگر مل کے کلرک محمد یاسین کے اکائونٹ میں 715 ملین روپے، محمد مشتاق چینی والا کے اکائونٹ میں 555 ملین روپے، رمضان شوگر ملز کے سیلز منیجر فقیر الدین کے اکائونٹ میں 56 کروڑ روپے، رمضان شوگر مل کے اکائونٹنٹ ظفر اقبال انجم کے اکائونٹ میں 52 ارب روپے، رمضان شوگر مل کے ہی ملازم تنویر الحق کے اکائونٹ میں 52 کروڑ روپے، اسی مل کے کلرک کاشف مجید کے اکائونٹ میں 461 ملین روپے اور مسعود انور کے اکائونٹ میں 230 ملین روپے کی رقم آئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ طویل لسٹ ہے، ان دس سالوں میں جو کچھ ہوا اس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں، آج اسی کرپشن کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام ٹرانزیکشنز بینکوں سے ہوئی ہیں، یہ دستاویزی ثبوت ہیں۔











