ایف بی آر کا ڈیٹا محفوظ رہا، ہیکرز کی کوششیں ناکام ہو گئیں؛ چوہدری فواد حسین کی کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ

17

اسلام آباد،14ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے  کہا کہ اجلاس   میں   کابینہ کو بتایا گیا کہ 14اگست 2021ءکو ایف بی آر کے ڈیٹا سنٹر پر سائبر حملے کے پیش نظر ایف بی آر حکام کی جانب سے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004ءکے تحت آپریشنل ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا تاکہ ڈیٹا سنٹر کی حفاظت کے لئے تمام تر ضروری اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کئے جا سکیں اور ڈیٹا سنٹر کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ کابینہ نے ان اقدامات کی توثیق کی۔ اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 14 اگست 2021ءکو ایف بی آر کی ویب سائیٹ کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی، اس کی انکوائری مکمل ہو گئی ہے اور یہ بات سامنے آئی کہ ایف بی آر کا ڈیٹا محفوظ رہا، ہیکرز اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔ ایف بی آر نے ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے، ایک پروفیشنل کمپنی کو ہائر کیا جو ڈیٹا پروٹیکشن کو یقینی بنا رہی ہے، اس کے لئے رولز میں ریلیکس کیا گیا ہے تاکہ وہ جلدی ہائرنگ کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کابینہ کو بتایا کہ اس سال پاکستانی ویب سائیٹس پر تقریباً 10لاکھ سائبر حملے  ہو چکے ہیں، این ٹی سی نے ان اٹیکس کو ناکام بنایا، پاکستان کے اندر  سائبر سیکورٹی کا ایک جامع فریم ورک موجود ہے، ہم اسے مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گارڈین اخبار نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ ہندوستان نے اسرائیلی کمپنی کے ساتھ مل کر پاکستان کے اہم موبائل فونز کا ڈیٹا ہیک کرنے کی کوشش کی جن میں وزیراعظم کا نمبر بھی شامل تھا۔ ہم نے اس کے لئے ایک انکوائری کمیٹی بنائی تھی، ہم جامع ڈیٹا پروٹیکشن پر کام کر رہے ہیں۔