جس جنگ میں امریکہ نے دو ہزار ارب ڈالر جھونک دئیے، پاکستان کیسے اس مدافعتی جنگ میں مدد فراہم کر سکتا تھا؛وزیراعظم عمران خان

10

دوشنبے،17ستمبر  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس جنگ میں امریکہ نے دو ہزار ارب ڈالر جھونک دئیے، پاکستان کیسے اس مدافعتی جنگ میں مدد فراہم کر سکتا تھا۔

ان خیالات کا اظہار وزیرِاعظم عمران خان نے جمعہ کو دوشنبے میں آر ٹی (عریبک) چینل کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس حوالے سے بدقسمتی سے ہمارے خلاف ایک پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے اپنی نااہلی، کرپشن اور افغانستان میں موثر گورننس نہ کرسکنے کی صلاحیت سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ پروپیگنڈا شروع کیا گیا، اس حکومت کو افغانیوں کی اکثریت کٹھ پتلی حکومت سمجھتی رہی ہے کیونکہ اس حکومت کی افغانیوں کی نظر میں کوئی عزت نہیں تھی، اس پروپیگنڈے کا دوسرا کردار بھارت ہے جس نے اشرف غنی کی افغان حکومت پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ پروپیگنڈا انکی جانب سے جاری ہے مگر اس کی کوئی منطق نہیں ہے، پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کیلئے پاکستان کا کل بجٹ پچاس ارب ڈالر ہے، ہماراملک کیسے اس مدافعتی جنگ میں مدد فراہم کر سکتا تھا جو امریکہ پر حاوی ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں امریکہ نے بیس سالوں میں دو ہزار ارب ڈالر سے زائد جھونک دئیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ محض پراپیگنڈا ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تین لاکھ افغانی فوج نے لڑائی ہی نہیں کی، کیا پاکستان نے انہیں لڑنے سے منع کیا تھا؟۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر آپ یہ وجوہات جانناچاہتے ہیں کہ کیوں بیس سال بعد طالبان فتح یاب ہوئے اور امریکہ کو شکست ہو گئی تو اس کے لئے آپ کو ایک تفصیلی تجزیہ کرنا ہوگا کہ کیوں دنیا کی بہادر ترین اقوام میں سے ایک قوم یعنی افغانوں کی فوج نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دئیے۔