زرعی شعبہ میں بائیو ٹیکنالوجی سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک پاکستان کی فنی راہنمائی و معاونت کریں؛ صوبائی وزیر سید حسین جہانیاں گردیزی

22

لاہور ،29ستمبر( اے پی پی): صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا ہے کہ  زرعی شعبہ میں بائیو ٹیکنالوجی سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک پاکستان کی فنی راہنمائی و معاونت کریں جیسا کہ1960ء کے” سبز انقلاب” کے دوران امریکن زرعی سائنسدانوں اور پاکستانی زرعی سائنسدانوں نے باہمی تعاون سے میکسی پاک جیسی گندم کی اقسام دریافت کی تھی جس سے فی ایکڑ زیادہ پیداوار کا حصول ممکن ہوا تھا۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے لاہورمیں امریکن کونسلیٹ اور پنجاب بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے باہمی تعاون سے بائیو ٹیکنالوجی و موسمی تبدیلیوں کے زراعت پر اثرات کیلئے منعقدہ آن لائن زوم سیمینار میں شرکت کے دوران کیا۔

صوبائی وزیر زراعت نے   کہا کہ کپاس میں خاص طور پر جی ایم او ٹیکنالوجی کے تحت نئی اقسام کی دریافت وقت کی اہم ضرورت ہے کیوں کہ گزشتہ چند برسوں میں موسمی تبدیلی اور ضرررساں کیڑوں کے حملہ کے باعث اس کی پیداوار میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کپاس کی پیداوار میں بہتری کے لئے اقدامات کئے ہیں اور امسال گزشتہ سال کی نسبت بہتر پیداوار حاصل ہونے کے امکانات ہیں مگر اس کے ساتھ جی ایم اوٹیکنالوجی والی اقسام سے پاکستان ٹیکسٹائل کے میدان میں مزید منافع حاصل کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں امریکہ و دیگر ترقی یافتہ ممالک پاکستان کی فنی راہنمائی کر سکتے ہیں۔

صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ  پاکستان زرعی پیداوار کے حصول میں دنیا کے10 ممالک میں سے ایک ہے مگر بڑھتی ہوئی آبادی کی شرح کی وجہ سے فوڈ آئٹمز کو ایکسپورٹ کرنا پڑتا ہے۔انہوں  نے کہا کہ پاکستان میں موسمی تبدیلیوں سے بھی پیداوار میں کمی واقع ہو رہی ہے،ہمارے زرعی سائنسدان فصلوں کی ایسی اقسام کی دریافت کے لئے کوشاں ہیں جو زیادہ گرمی اور سردی میں پیداوار دے سکیں۔

سید حسین جہانیاں گردیزی نے   کہا کہ اس اعتبار سے ایسے سیمینارز کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے کیوں کہ یہ وہ فورم ہے جس کی توسط ایک ملک کے زرعی سائنسدان دوسرے کی ریسرچ سے راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔